اسرائیلی وزیر دفاع کی خامنہ ای کے قتل کی دھمکی .... نیتن یاہو کا رد عمل آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز کی جانب سے جمعرات کے روز ایرانی رہبر علی خامنہ ای کو دی گئی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں تھی، کیوں ہ وہ گزشتہ دنوں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تصادم کے دوران اپنے سابقہ بیانات میں ان پر حملے کے امکان کی طرف اشارہ کر چکے تھے۔

یہ صورت حال اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے موقف کی روشنی میں توجہ کا باعث بنی، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ وہ پہلے ہی یہ اعلان کر چکے تھے کہ ان کے ملک کا مقصد ایرانی نظامِ حکومت کو گرانا نہیں ہے ... اگرچہ انھوں نے اس کے نتیجے میں ایسا ہونے کے امکان کو خارج نہیں کیا تھا۔

گزشتہ شب اسرائیلی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے واضح کیا کہ ایران کے حوالے سے ان کے ملک کے لیے کوئی سرخ لکیر موجود نہیں۔ جب ان سے کاتز کی خامنہ ای کو دی گئی دھمکی کے بارے میں صراحت سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا "میں نے ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ایران میں کسی کو بھی استثنا حاصل نہیں ہو گا۔"

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای

اسرائیلی ذرائع کے مطابق، وزیر دفاع کے ان بیانات پر نیتن یاہو سخت غصے میں آ گئے۔ اسرائیلی چینل 13 کے مطابق، نیتن یاہو کو ان دھمکیوں پر شدید برہمی ہوئی، کیوں کہ کاتز نے یہ بیانات ان سے کسی مشاورت یا ہم آہنگی کے بغیر دیے تھے، اور یہ دونوں دفاتر کے درمیان جاری کشیدگی کا نتیجہ تھے۔
یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور کئی اعلیٰ ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ایرانی رہبر کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔

عراقی مسلح دھڑوں نے بھی تنبیہ کی ہے کہ اگر خامنہ ای کو “ایک بال کا بھی نقصان پہنچا” تو وہ حرکت میں آئیں گے۔
واضح رہے کہ 13 جون سے اسرائیل نے ایران پر حملے اور فضائی بم باری کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، جن میں فوجی اڈے، جوہری تنصیبات اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جب کہ درجنوں فوجی کمانڈروں اور دس سے زائد جوہری سائنس دانوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں