اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا مقصد ایرانی رجیم کو تبدیل کرنا یا اسے ختم کرنا نہیں ہے۔ تاہم جنگ کا ایک نتیجہ رجیم کی صورت بھی مل سکتا ہے۔
انہوں نے جمعرات کے روز اس امر کی واضاحت کرتے ہوئے کہا رجیم کی تبدیلی کا معاملہ جنگ کا اولین مقصد بالکل نہیں، یہ اولین مقصد ایرانی عوام کا ہے۔ ایرانی عوام کے نزدیک یہ ایسا مقصد اور ضرورت ہے جس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی لیے میں نے بھی اسے اپنی جنگ کے مقصد کے طور پر پیش کیا تھا ۔
ایک سرکاری نشریاتی ادارے 'کان' کو نیتن یاہو نے بتایا میں اب یہ کہتا ہوں کہ ہر گز مقصد نہیں مگر اس جاری جنگ کا ایک نتیجہ ضرور بن سکتا ہے۔
انہوں نے ایرانی رجیم تبدیلی کو گول بنانے کے بجائے یہ کہا کہ اسرائیل اپنی اس جنگ سے پوری دنیا کا چہرہ مہرہ تبدیل کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے اس ارادے کے بارے میں جنگ کے ساتویں روز بتایا ہے۔
ان کا کہنا تھا میں پہلے یہ کہتا تھا کہ ہم مشرق وسطی کا حلیہ بھی تبدیل کر رہے ہیں۔ لیکن اب کہہ رہا ہوں کہ صرف مشرق وسطی نہیں پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہم نے آدھے سے زیادہ ایرانی میزائل لانچنگ کا نظام تباہ کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ ہم ہر اس کا خیر مقدم کرتے ہیں جو ایران کی جوہری تنصیبات ختم کرنے میں ہمارای مدد کرتا ہے۔ ہم خود بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں مگر اس میں مدد کو خوش آمدید کہیں گے۔
امریکہ کے اس مقصد کے لیے جنگ میں شامل ہونے کے بارے میں نیتن یاہو نے کہا صدر ٹرمپ اس معاملے میں وہی کریں گے جو امریکہ کے اپنے مفاد میں ہوگا۔ جبکہ میں وہ کروں گا جو اسرائیل کے مفاد میں ہوگا۔