امریکہ کی میزبانی میں العدید ایئر بیس پر میزائل داغے جانے کے بعد قطر نے تہران میں ایرانی سفیر کو طلب کیا تھا۔ اب ایرانی وزارت خارجہ نے صورتحال کو کم کرنے میں دوحہ کے کردار کی تعریف کی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے منگل کو کہا کہ ان کا ملک علاقائی کشیدگی کو روکنے کے لیے دوحہ کے تعمیری کردار کو سراہتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون اور افہام و تفہیم کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو تنازعات کو ہوا دینے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے وضاحت کی کہ ان کے ملک کی جانب سے العدید ایئر بیس پر میزائل حملے امریکی فوجی جارحیت کے جواب میں تھے۔ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے جائز حق کے نفاذ کے لیے کیے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے ’’ ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں زور دیا کہ ایران خطے میں پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھی ہمسائیگی اور کشیدگی میں کمی کے اصول پر کاربند ہے۔
Iran’s military strikes on American military base ‘Al-Udeid’ was in exercise of our self-defense under Article 51 of the UN Charter in response to the United States’ unprovoked aggression against Iran’s territorial integrity and national sovereignty that took place on 22 June…
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) June 24, 2025
خبر رساں ادارے فرانس پریس کے مطابق قطری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے "آج ایرانی سفیر علی صالح آبادی کو طلب کیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے العدید ایئر بیس پر حملے کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔
قطر نے اس حملے کو اپنی خودمختاری اور فضائی حدود کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب قطری حکام نے بھی گزشتہ روز حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔