سعودی عرب کی خلائی ایجنسی نے طلبہ کے تیار کردہ 10 سائنسی تجربات خلا میں بھیج دیے ہیں۔ یہ تجربات "الفضاء مداك" نامی سائنسی مقابلے کا حصہ ہیں، جسے سعودی خلائی ایجنسی نے محمد بن سلمان فاؤنڈیشن "مسک" اور سائنسی دریافت و اختراع کے مرکز "علمی" کے اشتراک سے منعقد کیا تھا۔ تجربات کی روانگی امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے کی گئی۔
ایجنسی کے مطابق یہ تجربات ان طلبہ کے خیالات کو عملی شکل دیتے ہیں جو خلا اور کششِ ثقل کی کم ترین حالت میں سائنسی تحقیق میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ تجربات بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر انجام دیے جائیں گے۔
یہ مقابلہ تین شعبوں میں رکھا گیا ہے: فنون، نباتات اور انجینئرنگ۔ 6 سے 18 سال کے عمر کے طلبہ نے اس میں حصہ لیا، جنہیں خلا میں تحقیق کے مواقع فراہم کیے گئے تاکہ وہ زمین اور خلا کی کششِ ثقل میں فرق کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
یہ قدم سعودی خلائی ایجنسی کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد مملکت کی خلائی شعبے میں عالمی موجودگی کو مضبوط کرنا اور ایک ایسا علمی ماحول پیدا کرنا ہے جو سائنس پر مبنی معیشت کی راہ ہموار کرے۔ یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جو نئی نسل کو خلائی تحقیق کے میدان میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے۔
-
وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی سفیرنواف بن سعید المالکی کی ملاقات
مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال
پاكستان -
سعودی ولی عہد اور ایرانی صدر کا رابطہ، خطے میں امن مساعی پر اتفاق
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود ...
مشرق وسطی -
سعودی ولی عہد اور پاکستانی وزیر اعظم کی خطے کی صورت حال پر بات چیت
دونوں شخصیات نے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور ...
مشرق وسطی