پرانا غلافِ کعبہ کہاں جاتا ہے ؟

شاہ عبدالعزیز نے غلاف کی تیاری کے لیے پہلا مرکز مکہ مکرمہ میں قائم کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ہر سال انہی لمحات میں، یعنی نئے ہجری سال کے آغاز پر اور اس کی پہلی ساعتوں میں، دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل اور نگاہیں مقدس ترین مقام، مکہ مکرمہ میں واقع خانہ کعبہ کی جانب متوجہ ہو جاتی ہیں۔ اس مقام کی طرف جس کا رخ وہ دن میں پانچ مرتبہ یا اس سے زائد عبادت کے دوران کرتے ہیں۔

زمان و مکان کی قدسیت

یہ وقت جتنا اپنی معنویت اور حرمت کے سبب اہم ہے، اتنا ہی مقام کی حرمت کی وجہ سے بھی مقدس شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو سعودی عرب میں نسل در نسل چلی آ رہی ہے، جہاں حکومت اور عوام دونوں نے خود کو حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

سعودی ہاتھ اور قیمتی دھاتوں سے کڑھائی

ہر سال کی ان طلوع فجر کی گھڑیوں میں، سعودی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے دو اہم سرکاری ادارے " مسجد حرام و مسجد نبوی کے امور کی عام نگران اتھارٹی" اور " شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے تیاریِ غلافِ کعبہ" ... بیت اللہ شریف کو نیا غلاف پہناتے ہیں۔ یہ غلاف خالص ریشم پر سونے اور چاندی کی کڑھائی سے تیار کیا گیا ہوتا ہے، اور یہ سب صرف سعودی ہاتھوں سے انجام پاتا ہے۔

یہ روح پرور منظر اکثر براہِ راست کئی ٹی وی چینلوں پر نشر کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے انتہائی خاص اور اثر انگیز لمحہ ہوتا ہے۔

آغاز اور انجام

کعبے کو نیا غلاف پہنائے جانے کا عمل ... نہایت احتیاط سے پرانے غلاف کو اتارنے سے شروع ہوتا ہے، کیونکہ اس پر قرآنی آیات اور دنیاوی لحاظ سے قیمتی ترین اشیاء کا کام کیا گیا ہوتا ہے۔

لیکن یہ سوال اکثر ذہنوں میں آتا ہے کہ ... پرانا غلاف کہاں جاتا ہے؟ کیا اسے محفوظ کیا جاتا ہے، تلف کر دیا جاتا ہے یا کسی اور شکل میں استعمال کیا جاتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ پرانے غلاف کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ دیا جاتا ہے، اور پھر یہ ٹکڑے قیمتی تحائف کی شکل میں اعلیٰ شخصیات، سرکاری اداروں اور سفارت خانوں کو پیش کیے جاتے ہیں، جب کہ بعض حصے سعودی عرب کے اندرونی اور بیرونی عجائب گھروں کو بھیجے جاتے ہیں۔

قیمتی تحائف

بعض لوگ یہ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ کچھ سربراہانِ مملکت، وزراء یا سفیروں کے دفاتر میں ایسی فریم شدہ ٹکڑیاں آویزاں ہوتی ہیں۔ ان تحائف پر فخر کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کی روحانی اور علامتی حیثیت بے مثال ہوتی ہے۔

بانی مملکت سے لے کر آج تک جاری موروثی روایت

کعبے کے غلاف اور مقدس مقامات کی دیکھ بھال سعودی عرب کی موجودہ پالیسی نہیں بلکہ یہ 1927ء میں بانی مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن کے دور سے چلی آ رہی ہے۔ اسی سال مکہ مکرمہ میں پہلی مرتبہ کسوہِ کعبہ کی تیاری کے لیے ایک خصوصی مرکز قائم کیا گیا تھا۔ یہاں پہلی مرتبہ سعودی ساختہ غلاف تیار کیا گیا۔ بعد ازاں 1977ء میں یہ عمل "ام الجود" کے مقام پر منتقل ہوا، جہاں آج "کسوہِ کعبہ کا کارخانہ" موجود ہے۔

حکومتی سرپرستی کی صورتیں

سعودی حکومت کی طرف سے حرمین شریفین اور دیگر مقدس مقامات کی خدمت صرف غلافِ کعبہ تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جھلک ریاست کی جانب سے مقدس سرزمین میں جاری عظیم الشان منصوبوں میں بھی نظر آتی ہے۔ ان میں حرمین کی توسیع، جمرات پروجیکٹ، اور زائرین کی آسانی کے لیے قائم کیا گیا "حرمین ٹرین پروجیکٹ" شامل ہے۔

سعودی عوام عالمِ اسلام کی خدمت میں مصروف

ہر حج کے موقع پر سعودی حکومت کے مختلف اداروں سے وابستہ لاکھوں افراد مکہ مکرمہ میں جمع ہو کر حجاجِ کرام کی خدمت سرانجام دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے مناسک آرام اور آسانی سے ادا کر سکیں۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد ہر سال حج کے انتظامات کو براہِ راست مکہ مکرمہ میں رہ کر ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہ اقدام اس دینی و اخلاقی پیغام کا تسلسل ہے جو بانی مملکت نے قائم کیا تھا کہ حاجی کو مکمل سکون اور سہولت کے ساتھ حج ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں