"رفح منصوبے" پر اسرائیلی فوج کا اعتراض، زامیر اور یاہو کے درمیان سخت جھگڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی فوج کے عناصر نے "رفح منصوبے" پر اعتراض کیا ہے۔ اس منصوبے میں غزہ میں لاکھوں فلسطینیوں کو پٹی کے اندر ایک "انسانی علاقے" میں منتقل کرنا شامل ہے۔ اسرائیلی فوج کے عناصر نے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے اور انہوں نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کردی ہے۔

اسرائیلی فوج میں اس اندرونی مخالفت نے وزارت دفاع کے منصوبے کو ایک غیر معمولی چیلنج دیا ہے ۔ اسرائیلی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان جنگی کابینہ کے اجلاس کے دوران شدید جھگڑا ہوا ہے۔ اخبار ’’ دی ٹائمز ‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی چیف آف سٹاف زامیر کے دفتر نے ریزرو فوجیوں کی جانب سے اسرائیلی سپریم کورٹ میں دائر کردہ ایک درخواست کے جواب میں کہا کہ وہ فیصلہ کریں کہ کیا 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے تقریباً دو سال بعد غزہ میں اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ زامیر نے کہا ہے کہ آبادی کو منتقل کرنا جنگ کے اہداف کا حصہ نہیں ہے اور اسرائیلی فوج یقینی طور پر آبادی کو غزہ کی پٹی کے اندر یا باہر منتقل ہونے پر مجبور نہیں کر رہی ہے۔ یاد رہے اسرائیل کی طرف سے جنگ کے اعلان کردہ اہداف میں حماس کی تحریک کو تباہ کرنا اور سات اکتوبر کو اغوا کیے گئے باقی یرغمالیوں کو رہا کرنا شامل ہے۔

غیر قانونی مشن میں حصہ نہیں لیں گے

اسرائیلی فوجی افشالوم سال، جو دو ریزرو افسران کے ساتھ درخواست دائر کرنے میں شامل تھے، نے کہا ہے کہ اگر اب مشن بے دخلی، قبضہ اور آباد کاری ہے تو یہ ایک غیر قانونی مشن ہے اور میں اس میں حصہ نہیں لوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ یا تو فوج اور ریاست کے درمیان ایک ایسے بے مثال تصادم کا باعث بنے گا جس کو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ یا اس سے ایسا منصوبہ نافذ ہوگا جو آنے والی نسلوں تک اسرائیل کو نقصان پہنچائے گا۔ درخواست گزاروں کے لیے "آخری حربہ" قرار دیا گیا۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ ریاست اور فوج کے رہنما ان سے ایک ایسی جنگ میں شراکت دار بننے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی بنیاد بنیادی طور پر شہریوں کی جبری نقل مکانی پر ہے۔

آبادی کو مسلح افراد سے الگ کرنا

اپنی طرف سے ایک سینئر اسرائیلی جنرل نے کہا کہ غزہ کے باشندوں کو منتقل کرنا جنگ کے اہداف کا حصہ نہیں ہے کیونکہ مقصد حماس کی تحریک کو ختم کرنا ہے۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اسے حاصل کرنے کا طریقہ شہریوں کو مسلح افراد سے الگ کرنا ہے جس کے لیے کئی کیمپ بنائے جائیں گے۔ بریگیڈیئر اورین سولومن نے مزید کہا کہ ہم سیاسی ہدایات کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ انہیں نافذ کرتے ہیں۔ اختلاف اس بات پر ہے کہ انہیں کیسے نافذ کیا جائے اور ہم جانتے ہیں کہ ہم صرف ایک ہی مقام قائم نہیں کر سکتے۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی شہر تمام آبادی کو ایڈجسٹ نہیں کر سکے گا لہٰذا ہمیں کئی اسی طرح کے مقامات تعمیر کرنے چاہئیں۔

رفح منصوبہ

اسرائیل نے اس ہفتے غزہ کی پٹی میں لاکھوں فلسطینیوں کو ایک انسانی علاقے میں منتقل کرنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا انکشاف کیا تھا۔ اس قدم کو بے مثال قرار دیا گیا۔ اس منصوبے پر اسرائیل کے اندر اور باہر قانونی ماہرین نے شدید تنقید کی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا کہ انہوں نے فوج کو رفح میں ایک "انسانی شہر" قائم کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ ایک ایسی جگہ ہو جہاں بالآخر غزہ کی پٹی کے تمام باشندوں کو جمع کیا جائے۔

مجوزہ شہر پٹی کے جنوب میں رفح شہر کے کھنڈرات پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں مواصی علاقے سے تقریباً چھ لاکھ فلسطینیوں کو ایک حفاظتی جانچ کے بعد نئے علاقے میں منتقل کرنا شامل ہے۔ انہیں اس کے بعد وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو شہر کے لیے کام اس وقت زیر بحث 60 دن کی جنگ بندی کے دوران شروع ہو جائے گا۔

کاٹز نے اشارہ کیا کہ اسرائیل علاقے کو منظم کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج آس پاس کے علاقے کو محفوظ بنائے گی لیکن مجوزہ نئے مقام کا انتظام نہیں کرے گی اور نہ ہی امداد تقسیم کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں