امریکہ اور ترکیہ کی سرپرستی میں شام اور اسرائیل کے درمیان سیکورٹی رابطے بحال

اسرائیل نے شام پر حملے روکنے کا وعدہ نہیں کیا اور وہ غیر فوجی علاقوں میں اپنی مستقل موجودگی کا مطالبہ کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

العربیہ/الحدث کے ذرائع نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ امریکی اور ترک سرپرستی میں شام کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی رابطے بحال ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ترکیہ اور شام کے درمیان بھی بات چیت جاری ہے، جس میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (کرد فورسز)، دروز، علوی اقلیت اور اسرائیل کے ساتھ مفاہمت جیسے موضوعات زیرِ بحث ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک اسرائیلی وفد آذربائیجان جا رہا ہے تاکہ ان مفاہمتوں کو مکمل کیا جا سکے، اور سویداء کے معاملے کا حل بھی قریب آ چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق، شامی حکومت سویداء کے واقعات پر اسرائیلی ردِ عمل سے حیران رہ گئی ہے۔

اسی طرح ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ شام کے بحران کے حوالے سے ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بھی رابطہ جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے شام پر اپنے حملے روکنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا اور وہ ایک غیر فوجی (اسلحے سے پاک) زون اور 1974 کی لائن پر واقع بفرزون (علاقوں) میں مستقل موجودگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

یہ بفرزون علاقہ تقریباً 80 کلومیٹر طویل ہے، جس کی چوڑائی 500 میٹر سے 10 کلومیٹر تک ہے، اور اس کا رقبہ 235 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ علاقہ جولان کی مقبوضہ پہاڑیوں اور باقی شام کے درمیان واقع جنگ بندی لائن پر پھیلا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں