شام میں مداخلت پر امریکی ایلچی کی اسرائیل پر تنقید اور شامیوں کے درمیان مکالمے کی اپیل

براک نے بیروت سے بیان میں کہا "امریکہ سویداء کی صورت حال پر ناقابلِ یقین حد تک فکرمندی، درد، ہمدردی اور امداد کے جذبے کے ساتھ ردِ عمل دے رہا ہے".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹوم براک نے اعلان کیا کہ "اسرائیل کی جانب سے شام میں مداخلت نہایت نا مناسب وقت میں کی گئی ہے"۔

براك نے وضاحت کی کہ "شامی عوام کے لیے مکالمے کا کوئی متبادل نہیں"۔ انھوں زور دیتے ہوئے کہا کہ "بے جا قتل و غارت گری کو بند کیا جانا ضروری ہے"۔ یہ بات ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی نے بتائی۔

امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ "شامی حکومت نے وہ سب کچھ کیا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا تھا، اور اس حوالے سے کوئی غلطی نہیں کی"۔ ان کے مطابق "سویداء کے بحران میں شامی حکومت نے حتی الامکان کوشش کی، خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ ایک نئی حکومت ہے"۔

براک نے اپنے سابقہ بیانات میں کہا تھا کہ سویداء کے واقعات پر شامی حکومت کا محاسبہ اس وقت تک نہیں کیا جانا چاہیے جب تک اسے ریاست کی مکمل سرحدوں پر کنٹرول حاصل نہ ہو جائے۔ ساتھ ہی انھوں نے اقلیتوں کے تحفظ میں دمشق کے کردار پر بھی زور دیا۔

بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران براک نے کہا کہ "امریکہ سویداء میں ہونے والی واقعات کو انتہائی پریشانی، دکھ، ہمدردی اور امداد کے جذبے کے ساتھ دیکھ رہا ہے"۔

اتوار کے روز براک نے تمام متحارب گروہوں سے ہتھیار ڈالنے اور دشمنی ترک کرنے کی اپیل کی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ "شام ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے"۔ امریکی ایلچی کے مطابق "تمام گروہوں کو فوراً ہتھیار ڈال دینے چاہئیں، دشمنی ختم کرنی چاہیے، اور قبائلی انتقام کے چکر سے باہر آنا چاہیے"۔

شام کے لیے امریکی ایلچی نے مزید کہا "اب وقت آ گیا ہے کہ امن اور مکالمہ غالب آئیں"۔

لبنانی معاملے پر بات کرتے ہوئے براک نے آج پیر کو کہا کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی ناکامی کے بحران کے حل پر کام کر رہے ہیں، لیکن اس وقت وہ "اسرائیل کو کسی اقدام پر مجبور نہیں کر سکتے"۔

بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران براک نے کہا "ہم لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی ناکامی کی وجوہات کا جائزہ لے رہے ہیں"۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ "لبنان علاقائی استحکام کا حصہ ہے"۔

انھوں نے مزید کہا کہ "واشنگٹن حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے اور اس سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا"۔ براک نے یہ بھی کہا کہ "ہم لبنانیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ امن قائم ہو، لیکن اس کا حل لبنانی حکومت کے ہاتھ میں ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں