"نمایاں بہتری"…. اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر حماس کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے

حماس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں 60 دن کی جنگ بندی کی تجویز پر اپنا جواب ثالثوں کو دے دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک اسرائیلی عہدے دار نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب کو غزہ میں جنگ بندی سے متعلق پیشکش پر حماس کا جواب موصول ہو چکا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکی ویب سائٹ "axios" کے اسرائیل میں نامہ نگار براک رافید نے بتایا کہ ایک اسرائیلی عہدے دار کے مطابق، حماس کے اس جواب میں منگل کو دیے گئے جواب کے مقابلے میں "نمایاں بہتری" ہے۔ منگل کے روز موصول ہونے والے جواب کو ثالثوں نے مسترد کر دیا تھا۔

رافید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنی پوسٹ میں اس اسرائیلی عہدے دار کے حوالے سے لکھا کہ "اسرائیل کو حماس کا قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق معاہدے پر جواب موصول ہو گیا ہے، اور ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا "یہ جواب منگل کو دیے گئے جواب کے مقابلے میں بہتر ہے، جسے ثالثوں نے بالکل مسترد کر دیا تھا اور اسرائیل تک پہنچایا بھی نہیں تھا۔"

اسرائیلی عہدے دار کا کہنا تھا کہ "اس بار حماس کے جواب میں نمایاں بہتری ہے، اور اب کچھ ایسا مواد موجود ہے جس پر کام کیا جا سکتا ہے۔"

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حماس نے کچھ ہی دیر قبل اعلان کیا کہ اس نے غزہ میں 60 دن کی جنگ بندی سے متعلق تجاویز پر اپنا جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ مذاکرات قطر میں دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ طور پر جاری ہیں۔
حماس نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر ایک بیان میں کہا کہ اس نے ثالثوں کو جنگ بندی سے متعلق اپنا اور دیگر فلسطینی دھڑوں کا متفقہ جواب دے دیا ہے۔

نقشے اور امداد کی شقوں میں ترامیم

فلسطینی ذرائع نے بدھ کے روز انکشاف کیا تھا کہ حماس نے جنگ بندی کی تجویز پر رد عمل میں "نقشے اور امداد" کی شقوں میں ترامیم کے ساتھ جواب دیا ہے۔

ذرائع نے "العربیہ/الحدث" کو بتایا کہ یہ ترامیم ثالثوں کی درخواست پر کی گئی ہیں، کیونکہ انہوں نے حماس کے پہلے جواب کو مسترد کر دیا تھا اور اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نقشے سے متعلق ترمیم میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ "فلاڈلفیا راہداری" (رفح کا علاقہ) سے 1200 میٹر پیچھے ہٹ جائے۔

جہاں تک امداد کا تعلق ہے، تو مجوزہ ترامیم کے تحت ایک حصہ اقوام متحدہ کے اداروں کو دیا جائے گا (جیسا کہ جنوری کے معاہدے میں تھا) جبکہ دوسرا حصہ "فلسطین ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن" کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا۔

عارضی جنگ بندی کی مدت 60 روز

یاد رہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے حماس اور اسرائیل کے وفود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ 21 ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے کوئی معاہدہ ہو سکے۔

یہ مذاکرات قطر، امریکا اور مصر کی مشترکہ ثالثی سے جاری ہیں، جن میں 60 دن کی عارضی جنگ بندی کی تجویز زیر غور ہے۔ اس مدت کے دوران حماس کے قبضے میں موجود مغویوں کو بتدریج رہا کیا جائے گا، اور اس کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔

حماس کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی معاہدے میں جنگ کا مستقل خاتمہ یقینی بنایا جائے، لیکن اسرائیل اس مطالبے کو مسترد کرتا ہے اور جنگی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کو حماس کی عسکری صلاحیتوں کی مکمل تحلیل سے مشروط کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں