خلیجی ممالک کی طرف سے فرانس کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا گیا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کے اگلے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔ خلیجی ملکوں نے فرانس کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ باقی یورپی ملکوں کو بھی فرانس کے اس فیصلے کی پیروی کرنی چاہیے۔
یورپ کے تین ملکوں نے پچھلے سال ماہ مئی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا تھا ان میں آئرلینڈ ، ناروے اور سپین شامل ہیں۔ اب فرانس کی طرف سے اس اعلان کے بعد یہ طے ہوگیا ہے کہ گروپ 7 کے رکن یورپی ملکوں میں بھی فلسطینی ریاست کے لیے سوچ تبدیل ہورہی ہے۔
جیساکہ فرانس کے صدر عمانوئیل میکروں نے جمعرات کے روز باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ فرانس کی طرف سے اگلے ستمبر میں نیویارک میں ہونیوالے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا جائے گا۔
یاد رہے اگلے چند روز میں فرانس اور سعودی عرب کے تعاون سے اقوام متحدہ کی میزبانی میں ایک فلسطین کانفرنس بھی منعقد ہونے جارہی ہے۔ جس میں دو ریاستی حل پر زور دیا جائے گا۔
خلیجی ملک قطر نے بھی فرانس کی طرف سے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی پذیرائی کی ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے کہا یہ پیش رفت فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی ہے ۔ اس کے نتیجے میں خطے میں جامع امن ممکن ہوگا۔
کویت کی طرف سے فرانسیسی صدر میکروں کے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کو خوش آمدید کہا ہے اور اسے ایک بڑا قدم کہا گیا ہے۔
دو خلیجی ریاستیں متحدہ عرب امارات اور بحرین جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے وہ بھی فرانس کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اس اعلان کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔