اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے امداد نے اتوار کو غزہ میں انسانی امدادی قافلوں کے لیے محفوظ زمینی راستوں کے اسرائیلی اعلان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اقوامِ متحدہ زیادہ سے زیادہ فاقہ زدہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔
اقوامِ متحدہ کے ٹام فلیچر نے ایکس پر کہا، "غزہ میں انسانی بنیادوں پر لڑائی میں وقفے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں تاکہ ہماری امداد وہاں پہنچ سکے۔ گراؤنڈ پر ہم اپنی ٹیموں سے رابطے میں ہیں جو اس دوران زیادہ سے زیادہ فاقہ زدہ لوگوں تک پہنچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گی۔"
اقوامِ متحدہ میں فلیچر کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا) نے جمعہ کو خبردار کیا، غزہ میں زمینی حالات "پہلے ہی تباہ کن اور تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔"
فاقے اور غذائیت کی کمی سے بیماریوں کے خطرے میں اضافے سے خبردار کرتے ہوئے دفتر نے کہا، "بھوک کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے" اور اس کے نتائج بہت زیادہ "مہلک" ہو سکتے ہیں۔
نیز کہا گیا، "فراہمی کی بہت قلیل مقدار بے پناہ ضروریات پوری کرنے کے لیے بالکل بھی کافی نہیں ہے۔"
اوچا نے کہا، اقوامِ متحدہ کی ٹیمیں فلسطینی سرزمین میں ترسیل تیز کرنے کے لیے موجود ہیں "جیسے ہی انہیں ایسا کرنے کی اجازت ملے گی۔"
"اگر اسرائیل راہداری کھول دے، ایندھن اور سازوسامان داخل ہونے دے اور انسانی ہمدردی کے عملے کو محفوظ طریقے سے کام کرنے کی اجازت دے دے تو اقوامِ متحدہ غذائی امداد، صحت کی خدمات، صاف پانی اور فضلے کے انتظام، غذائیت کی فراہمی اور پناہ گاہوں کے سامان کی ترسیل میں تیزی لائے گا۔"
اوچا نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی عائد کردہ پابندیوں سے انسانی ہمدردی کے کارکنان کی کام کرنے کی صلاحیت متأثر ہوئی ہے۔ مثلاً جمعرات کو غزہ کے اندر انسانی ہمدردی کی 15 کوششوں میں سے چار کو "صریح انکار" کر دیا گیا اور تین میں رکاوٹ پیدا کی گئی۔
ایک ملتوی کر دی گئی اور دو کو منسوخ کرنا پڑا یعنی صرف پانچ مشن آگے بڑھے۔
جمعہ کو اوچا نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل-حماس جنگ بندی کی صورت میں امداد کی ترسیل کا منصوبہ جاری کیا۔