کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں: عراقی وزیر اعظم، بغداد واقعہ پر رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

عراقی وزیر اعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف محمد شیاع السودانی نے قانون کی پاسداری اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے فرض میں کوئی نرمی نہ برتنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی کو بھی ریاست یا اس کے حکام کی جگہ لینے کا حق نہیں ہے اور کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

السودانی کے میڈیا دفتر نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ بات حکومت کے سربراہ کی طرف سے مشترکہ آپریشنز کے نائب کمانڈر، بغداد آپریشنز کے کمانڈر اور اس سکیورٹی فورس کے افسران کے ساتھ ایک ہنگامی سکیورٹی میٹنگ کے دوران کی گئی ہے ۔ بغداد میں کرخ کی جانب وزارت زراعت کے ایک شعبے پر حملے کے بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔

بیان کے مطابق السودانی نے قانون کی پاسداری اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے فرض میں کوئی نرمی نہ برتنے کی ضرورت، اور حملہ آور عناصر کی مداخلت اور ان کی پیشگی سکیورٹی منظوری کے بغیر حرکت کی تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجرموں کو موجودہ قوانین کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے اور تحقیقات انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ ہماری مسلح افواج کے اصولوں کے مطابق تحقیقات کی جائے۔ کسی کو بھی ریاست یا اس کے حکام کی جگہ لینے کا حق نہیں ہے اور کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے ۔

سنگین واقعہ

اس سے قبل وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ اتوار کی صبح کرخ کی جانب وزارت زراعت کے ایک شعبے میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا جو شعبے میں ایک نئے ڈائریکٹر کے فرائض سنبھالنے کے ساتھ ہی پیش آیا۔ جہاں ایک مسلح گروہ نے ایک انتظامی میٹنگ کے دوران شعبے کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور اس سے ملازمین میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انہوں نے فوری طور پر سکیورٹی فورسز کو طلب کرلیا۔

وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ وفاقی پولیس کے دستے اور کرخ گشت کی گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور انہیں مسلح افراد کی طرف سے براہ راست فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں متعدد افسران اور اہلکار زخمی ہوگئے۔ وزارت نے مزید کہا کہ وہ ریاستی اداروں پر کسی بھی تجاوز یا قانون کی حکمرانی کو دھمکی دینے کی اجازت نہیں دے گی۔ ریاست کا وقار اور قانون کی بالادستی ایک ریڈ لائن ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔

14 افراد گرفتار

پھر وزارت داخلہ نے ایک الگ بیان میں اعلان کیا کہ اب تک گرفتار کیے گئے ملزمان کی تعداد 14 ہو گئی ہے جو مسلح حملے میں ملوث تھے۔ سکیورٹی فورسز اعلیٰ قیادت کی براہ راست نگرانی میں باقی ملوث افراد کا پتہ لگانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تلاش اور تعاقب کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست کا وقار اور قانون کی بالادستی ایک ایسی ترجیح رہے گی جس میں کوئی نرمی نہیں ہوگی۔

وزارت نے یہ بھی وضاحت کی کہ اس کے سکیورٹی ادارے اپنے فرض کو پختگی اور ذمہ داری سے نبھا رہے ہیں اور کسی بھی افراتفری کو پھیلانے یا عوامی امن کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے نمٹنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ یہ واقعہ گزشتہ جمعہ کو ملک کے مشرقی صوبے میسان کے علاقے الھدام میں عدالتی گرفتاری کے وارنٹ کو نافذ کرنے کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں ایک عراقی سکیورٹی اہلکار کے زخمی ہونے اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد پیش آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں