ایک صحرائی مقام کو دورِ جدید کے مناظر میں تبدیل کرنے کے لیے مشہور شہر دبئی میں ڈویلپرز تعمیراتی عمل کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں کیونکہ وہ پراپرٹی کی طلب میں اضافے سے فائدہ اٹھانے اور زیادہ سے زیادہ مالی منافع کی تلاش میں ہیں۔
فریقِ ثالث کے ٹھیکیداروں پر طویل انحصار کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات کے بڑے ڈویلپرز کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد ازخود ایسی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد تعمیراتی معیاد، اخراجات اور معیارات پر کنٹرول بہتر کرنا اور بالآخر منافع کا ایک بڑا حصہ حاصل کرنا ہے حالانکہ اس میں خطرات بھی درپیش ہیں۔
ایک ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ برج خلیفہ تعمیر کرنے والی اعمار پراپرٹیز نے اپنے ماتحت ادارے میراج کے تحت رکن میراج قائم کیا ہے۔ اعمار اب سمانا ڈویلپرز، ایلنگٹن اور عزیزی جیسے ڈویلپرز میں شامل ہو گیا ہے۔ ان تمام نے گذشتہ دو سالوں میں اندرونی کنٹریکٹنگ یونٹس شروع کیے ہیں۔
سعودی شہزادہ خالد بن الولید بن طلال آلِ سعود کے تعاون سے قائم کردہ ڈویلپر ادارے نے بھی رائٹرز کو ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اس سال ایک آسٹریلوی کنٹریکٹر کا ایک حصہ حاصل کیا ہے اور اسے 2027 تک متحدہ عرب امارات کے آپریشنز میں ضم کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ تبدیلی دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں اضافے کے ساتھ سامنے آئی ہے جس میں دسمبر 2024 تک چار سالوں میں قیمتوں میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انڈسٹری کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پراپرٹی کے اجراء میں 2024 میں 83 فیصد اضافہ ہوا حالانکہ تکمیل میں 23 فیصد کمی آئی۔
اس تیزی کے باعث دبئی میں کارکنان کی آمد کو مزید تقویت ملی ہے جن میں بنیادی طور پر جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن مزدور شامل ہیں۔ اس سے ایک ایسے شعبے میں مندی کا خدشہ بھی پیدا ہوا ہے جو متحدہ عرب امارات کی معیشت کے لیے بہت اہم ہے۔
ڈویلپرز کو اس سلسلے میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
سمانا ڈیولپرز نے اپنی نئی اندرونِ خانہ شاخ کے لیے ابتدائی طور پر اپنے منصوبوں کا 20 فیصد مختص کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ چیف ایگزیکٹو عمران فاروق نے رائٹرز کو بتایا کہ اب اس کے 80-90 فیصد نئے منصوبوں کا انتظام اب اندرونی طور پر کیا جا رہا ہے۔
فاروق نے کہا، "ہم ایک پروجیکٹ کے لیے 25 یا 30 ٹھیکیداروں کی بولی لگاتے تھے۔ آج آپ کو مشکل سے دو یا تین ملتے ہیں۔"
اعمار اس دوران ایک ہائبرڈ طریقہ اختیار کر رہا ہے۔ بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر محمد العبار نے کہا، اگرچہ بعض پروجیکٹس ان کی اندرونی تعمیراتی شاخ میراج انجام دے گی لیکن وہ دوسروں کو آؤٹ سورس کرنا جاری رکھیں گے۔
ڈویلپرز زمین کی خریداری اور کاموں میں مالی معاونت کے لیے قرض کی منڈیاں بھی استعمال کر رہے ہیں۔
ڈویلپرز مالی مسائل سے بچنے کے لیے پروجیکٹس کو بروقت مکمل کرنا چاہتے ہیں۔
وہ تاخیر کے جرمانے سے بھی بچنا چاہتے ہیں جن کا انکشاف عوامی طور پر تو نہیں کیا جاتا لیکن کبھی کبھار مقامی میڈیا پر خبر آ جاتی ہے۔
الخلیج کی خبر کے مطابق مارچ میں دبئی کی ایک عدالت نے ایک ڈویلپر کو 12.4 ملین درہم کے علاوہ ایک تیرتے ہوئے ولا پر سود ادا کرنے کا حکم دیا۔
تعمیراتی کنسلٹنسی سٹون ہیون کے بانی اور منیجنگ پارٹنر گورڈن راجر نے کہا، "جب ڈویلپرز بلڈرز بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی توجہ ہٹنے لگتی ہے - اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب معاملات خراب ہونے لگتے ہیں۔"
"ان کی ٹیمیں زمین کے حصول، فروخت، مارکیٹنگ، تقریبات، تشہیر، فنڈنگ۔۔ اور پھر خریداری، سائٹ لاجسٹکس، صحت و سلامتی اور ذیلی ٹھیکیدار کے انتظام کی بھاری تعداد کے درمیان منقسم ہو جاتی ہیں۔"
راجر نے کہا، "آپ کے پاس ایک بڑی فیکٹری، ایک صحن، ایک بہت بڑا جوائنری ڈویژن، اندرونِ خانہ پلانٹ، اندرونِ خانہ ضروری ساز و سامان سب بیکار پڑے ہیں اور آپ کے پاس کوئی کام نہیں ہے کیونکہ آپ کا ماسٹر ڈویلپر کوئی رئیل اسٹیٹ فروخت نہیں کر سکتا۔"
صنعت کے ذرائع نے بتایا کہ تبدیلی کے نتیجے میں آزاد ٹھیکیدار رئیل اسٹیٹ کے باہر سرکاری انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ یا تیل اور گیس جیسے شعبوں میں مزید کام تلاش کر سکتے ہیں۔