غزہ میں امداد پر اسرائیلی پابندی .... 100 سے زائد تنظیموں کی شکایت

تنظیموں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی قواعد و ضوابط انھیں غزہ تک امداد پہنچانے سے روک رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سو سے زائد غیر سرکاری تنظیموں نے جمعرات کو جاری ایک مشترکہ خط میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے نئے قواعد جو غیر ملکی امدادی گروپوں کے کام کو منظم کرتے ہیں، ان کے ذریعے غزہ امداد پہنچانے کی درخواستوں کو بڑے پیمانے پر مسترد کیا جا رہا ہے۔

درخواستیں مسترد

خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے زندگی بچانے والی اشیاء غزہ لے جانے کے سلسلے میں درجنوں این جی اوز کی درخواستوں کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ تنظیمیں "امداد پہنچانے کی مجاز نہیں ہیں"۔

خط پر آکسفام اور ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز جیسی تنظیموں نے دستخط کیے ہیں۔ اس میں بتایا گیا کہ صرف جولائی میں کم از کم 60 درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

غزہ شہر میں کھانے کی تقسیم (فائل فوٹو – اے ایف پی)
غزہ شہر میں کھانے کی تقسیم (فائل فوٹو – اے ایف پی)

اسرائیلی حکومت نے رواں سال مارچ میں فلسطینیوں کے ساتھ کام کرنے والی غیر ملکی این جی اوز کے لیے نئے قواعد منظور کیے تھے، جن کے تحت ان کا اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ یہ طے کیا گیا ہے کہ درخواستیں کس صورت میں مسترد ہو سکتی ہیں یا اندراج منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی شرائط

ان قواعد کے مطابق اسرائیلی حکام اندراج اس وقت مسترد کر سکتے ہیں جب انھیں لگے کہ "تنظیم اسرائیل کے جمہوری تشخص کو تسلیم نہیں کرتی یا ملک کے خلاف عدم جواز کی مہمیں چلا رہی ہے"۔

بیرون ملک اسرائیلیوں کے وزیر عمیحائی شکلی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "بدقسمتی سے، کئی امدادی تنظیمیں بعض اوقات دشمنانہ اور پرتشدد سرگرمیوں کے لیے ڈھال کا کام کرتی ہیں"۔

غزہ شہر میں کھانے کی تقسیم (فائل فوٹو – اے ایف پی)
غزہ شہر میں کھانے کی تقسیم (فائل فوٹو – اے ایف پی)

انھوں نے مزید کہا کہ "جو تنظیمیں ایسی سرگرمیوں یا بائیکاٹ تحریک سے منسلک نہیں ہیں، انھیں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی"۔

دوسری جانب امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ نئے قواعد غزہ کے شہریوں کو امداد سے محروم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کئی مہینوں سے حماس پر امداد چرانے کا الزام لگا رہا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے کئی علاقوں میں شدید بھوک پھیل چکی ہے۔

رواں سال مئی سے اسرائیلی حکومت نے امریکا کی حمایت یافتہ "غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن" کو خوراک تقسیم کرنے والے مراکز کے انتظام کی ذمے داری سونپی تھی۔ تاہم یہ عمل افراتفری اور اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دوچار ہوا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں