العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور "امل تحریک" کے سربراہ نبیہ بری نے حزب اللہ کو فوج کے ساتھ تعاون کی دعوت دی ہے۔ واضح رہے کہ بری حزب اللہ کے حلیف ہیں۔ یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لبنانی حکومت کی جانب سے اس فیصلے پر عمل درآمد شروع ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں اسلحہ صرف ریاست کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق آج بدھ کو نبیہ بری نے حزب اللہ پر زور دیا کہ وہ اسلحہ جمع کرنے کے فیصلے کے خلاف یا اسے ناکام بنانے کے لیے عوامی سطح پر مظاہروں یا سڑکوں پر نکلنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
پارلیمںٹ کے اسپیکر کے مطابق انھوں نے حزب اللہ کو حکومت کی اس کوشش کی حمایت کرنے پر بھی آمادہ کیا، جس کے تحت جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس (یونیفل) کی موجودگی میں توسیع کی جائے۔
اسلحہ جمع کرنے کا منصوبہ
اس سے قبل حکومت نے رواں ماہ (اگست 2025) کے آغاز میں فیصلہ کیا تھا کہ ملک میں اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہو گا۔ اس کے لیے فوج کو ہدایت دی گئی کہ وہ حزب اللہ کے اسلحے کی حوالگی کا منصوبہ تیار کرے، جو اس ماہ کے آخر تک پیش کیا جائے گا اور سال 2025 کے اختتام تک اس پر عمل درآمد شروع ہو گا۔
تاہم حزب اللہ نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور واضح کیا کہ وہ اپنے اسلحے سے دست بردار نہیں ہو گی۔
حکومتی فیصلے کے رد عمل میں حزب اللہ کے حامیوں نے مختلف علاقوں میں کئی روز تک موٹرسائیکل ریلیاں نکالیں۔
اسی دوران کئی ایرانی حکام کی طرف سے یہ بیانات بھی سامنے آئے کہ حزب اللہ کو اپنے اسلحے سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ ان بیانات نے لبنان کے اندر مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید کو جنم دیا۔