اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے بدھ کی شب جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مراکز پر متعدد فضائی حملے کیے۔
فوج کے مطابق ان حملوں میں تنظیم کے بنیادی ڈھانچے، اسلحہ ذخائر اور ایک راکٹ لانچنگ پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے انھیں لبنان اور اسرائیل کے درمیان موجود سمجھوتوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
لبنانی وزارت صحت کے زیر انتظام پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق فضائی حملے میں سات افراد زخمی ہوئے۔
#توثيق | جيش الدفاع الإسرائيلي يهاجم أهدافًا إرهابية تابعة لمنظمة حزب الله الإرهابية في #لبنان
— افيخاي ادرعي (@AvichayAdraee) August 20, 2025
🟡 اغارت طائرات سلاح الجو قبل قليل على بنية تحتية إرهابية، مخازن وسائل قتالية ومنصّة إطلاق تابعة لمنظمة حزب الله الإرهابية في #جنوب_لبنان.
وجود هذه المخازن والبنية التحتية والمنصّة… pic.twitter.com/GVx3CXD6ir
اس سے قبل العربیہ/الحدث کے نمائندے نے بتایا تھا کہ اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے قصبے انصار کے نواح پر بم باری کی، جب کہ ایک اور فضائی حملہ صور کے علاقے الحوش پر ہوا، جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہوئے۔
بڑھتا ہوا فوجی تصادم
گزشتہ کئی ہفتوں سے جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل مسلسل ایسی بستیوں پر فضائی حملے کر رہا ہے جنھیں یا تو عام شہری علاقے کہا جاتا ہے یا جہاں حزب اللہ کے مراکز موجود ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی جاری رکھے گا اور حزب اللہ کو دوبارہ اپنی عسکری تنصیبات قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کرتا، وہ حملے جاری رکھے گا۔
جنگ بندی معاہدہ
نومبر 2024 سے لبنان میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ نافذ ہے، جو امریکہ کی ثالثی سے طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ ایک سال سے زیادہ جاری رہنے والی لڑائی کے بعد ہوا جو ستمبر میں کھلی جنگ کی شکل اختیار کر گئی تھی۔
معاہدے کے مطابق حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے جنوب (سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور) سے پیچھے ہٹنا تھا اور وہاں اپنی عسکری تنصیبات ختم کرنا تھیں۔ اس کے بدلے لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی عارضی فورس (یونیفل) کو اس علاقے میں اپنی موجودگی بڑھانا تھی۔
اسی طرح اسرائیل کو بھی جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی جگہوں سے پیچھے ہٹنا تھا، لیکن اس نے پانچ تزویراتی مقامات پر قبضہ برقرار رکھا ہے، جنھیں لبنان خالی کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔