طیاروں کو "5G" کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سعودی ایجاد

یہ کامیابی کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی (KAUST) کی سائنسی ٹیم نے حاصل کی ہے اور یہ ہوا بازی و مواصلات کے نظم و نسق میں معاون ثابت ہو گی.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) کے محققین نے ایک نیا ریاضیاتی طریقہ تیار کیا ہے جو طیاروں کو موبائل کمیونی کیشن سگنلز کے باعث پیدا ہونے والے مداخلتی اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ہو گا۔

یہ نتائج معروف سائنسی جریدے IEEE Transactions on Wireless Communications میں شائع ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے اس مطالعے میں Ideal Isolation Zone کی وضاحت کی ہے، جو نہ صرف طیاروں کے اہم نظاموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ 5G نیٹ ورکس کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نتائج ہوابازی اور ٹیلی کمیونی کیشن سے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ فضائی ٹریفک کے قریب نیٹ ورکس کی تنصیب کے حوالے سے بہتر پالیسی سازی کر سکیں۔

بے ترتیب عناصر کی ماڈلنگ

یہ پہلی بار ہے کہ اسٹوکاسٹک جیومیٹری کو عملی طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ایک ریاضیاتی طریقہ ہے جو نیٹ ورکس میں بے ترتیب عناصر کی ماڈلنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاکہ یہ پیش گوئی کی جا سکے کہ 5G سگنلز طیاروں کے وائرلیس آلٹی میٹرز (ریڈیو سے بلندی ناپنے والے آلات) کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں۔

ان آلٹی میٹرز کے ذریعے ڈیٹا مخصوص فریکوئنسی بینڈز پر برقی مقناطیسی لہروں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ فریکوئنسی بینڈ وسیع ہو گا، اتنی ہی زیادہ رفتار سے ڈیٹا منتقل ہو گا۔ فائیو جی اب تک کے سب سے وسیع فریکوئنسی بینڈ پر کام کرتا ہے، جو ڈیٹا کی غیر معمولی تیز رفتار منتقلی ممکن بناتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ دوسرے نظاموں میں مداخلت کر کے مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔

مداخلت کی سطح میں کمی

"کاؤست" میں تحقیق کے سربراہ پروفیسر محمد العلوینی نے وضاحت کی کہ 5G ایسے فریکوئنسی بینڈ پر کام کرتا ہے جو طیاروں کے وائرلیس آلٹی میٹرز کے قریب ہے اور یہ صورت حال ان کے سگنلز میں مداخلت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسےIsolation Zones بنانا ضروری ہیں جو اس مداخلت کی سطح کو کم کر سکیں۔

اگرچہ دنیا بھر میں فائیو جی نیٹ ورکس کے باعث کئی پروازیں پہلے ہی منسوخ ہو چکی ہیں، لیکن سعودی ٹیم نے جو حل تجویز کیا ہے وہ یہ ہے کہ مخصوص isolation zones قائم کیے جائیں جہاں فائیو جی ٹاورز صرف کم فریکوئنسی پر کام کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید بلند فریکوئنسی اسپیکٹرم کے بجائے پہلے سے دستیاب فریکوئنسی بینڈ پر انحصار کیا جائے۔

پیش گوئی کی تکنیک

بے ترتیب ہندسہ (Stochastic Geometry) کا استعمال مختلف اقسام کے isolation zones کے تجزیے کے لیے کیا گیا۔ ان میں رَن ویز (Runways) کے گرد مثلثی شکل کے زونز شامل ہیں، جو طیارے کے وائرلیس آلٹی میٹر کے سگنل کو محفوظ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی فائیو جی نیٹ ورک کی کارکردگی کے ضیاع کے رقبے کو کم سے کم کرتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم نے اس تکنیک کے ذریعے مداخلت کے اسلوب کی پیش گوئی کی اور مختلف isolation zones کے اثرات کو حفاظت اور کارکردگی کے لحاظ سے جانچا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ اگر اس زون میں صرف ایک فائیو جی ٹاور موجود ہو تو نیٹ ورک کی کارکردگی میں 20٪ کمی آتی ہے، جبکہ تین ٹاورز کی موجودگی میں یہ کمی بڑھ کر 50٪ تک پہنچ جاتی ہے۔

عالمی پالیسیوں کی رہنمائی

اس تحقیق کے اثرات مملکت کی سرحدوں سے آگے بھی جاتے ہیں، کیونکہ کئی ممالک طیاروں کے وائرلیس آلٹی میٹرز کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کی بنا پر، پہلے ہی ہوائی اڈوں کے قریب فائیو جی نیٹ ورکس کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔ یہ تحقیق سعودی میں (CST) Communication Space and Technology Commission کی معاونت سے انجام دی گئی۔ توقع ہے کہ یہ عالمی پالیسیوں کی رہنمائی میں مدد گار ثابت ہو گی، تاکہ فائیو جی نیٹ ورک اور وائرلیس آلٹی میٹرز کو ایک ساتھ محفوظ انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں