لبنانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لیطانی کے فلسطینی کیمپوں سے اسلحے کی ایک کھیپ وصول کی ہے۔
فوج نے آج جمعرات کے روز ایک بیان میں بتایا کہ فلسطینی کیمپوں سے اسلحہ وصول کرنے کے عمل کے تسلسل میں، فوج نے جنوبی لیطانی کے علاقے میں واقع الرشیدیہ، البص اور برج الشمالی (صور) کے کیمپوں سے فلسطینی اسلحہ وصول کیا ہے۔ یہ اقدام سیاسی قیادت کے فیصلے اور متعلقہ فلسطینی فریقوں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس عمل میں مختلف اقسام کے ہتھیار، گولے اور متنوع جنگی گولہ بارود شامل ہیں، جو فوج کی متعلقہ یونٹوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں، اور آئندہ مراحل میں یہ عمل جاری رہے گا۔
جمعرات کو لبنانی فوج نے فلسطینی کیمپوں سے اسلحہ واپس لینے کے اس فیصلے پر عمل درآمد جاری رکھا، جو حکومت نے پہلے ہی منظور کیا ہوا ہے۔
لبنانی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ فوج نے خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے اسلحہ جمع کرنے کی سب سے بڑی کارروائی کی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جنوبی اور شمالی لیطانی کے فلسطینی کیمپوں میں کی گئی اور یہ فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد سامنے آیا۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ فوج نے جنوبی الرشیدیہ کیمپ سے سات ٹرکوں پر مشتمل بھاری اسلحہ وصول کیا۔
استكمالًا لعملية تسلُّم السلاح من المخيمات الفلسطينية، تسلَّمَ الجيش كمية من السلاح الفلسطيني في منطقة جنوب الليطاني، وذلك من مخيمات الرشيدية والبص وبرج الشمالي - صور، تنفيذًا لقرار السلطة السياسية، وبالتنسيق مع الجهات الفلسطينية المعنية.
— الجيش اللبناني (@LebarmyOfficial) August 28, 2025
شملت عملية التسلُّم أنواعًا مختلفة من… pic.twitter.com/Ch3xfYnung
ان ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال کے اختتام سے قبل لبنانی فوج کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی شروع ہو چکی ہے۔
فلسطینی صدارت نے بھی اس بات کا اعلان کیا کہ کیمپوں سے اسلحے کی دوسری کھیپ حوالے کر دی گئی ہے اور اس عمل کو مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔
چند روز قبل بیروت کے نواحی علاقے میں برج البراجنہ کیمپ سے فلسطینی اسلحہ حوالے کرنے کا عمل شروع ہوا تھا۔ یہ اقدام 21 مئی کو لبنانی صدر جوزف عون اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان ہونے والی "لبنانی - فلسطینی" سربراہی ملاقات کے فیصلوں پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔ ملاقات میں لبنان کی مکمل خود مختاری، ریاستی اختیار کے نفاذ اور اسلحے کی اجارہ داری کے اصول کی توثیق کی گئی تھی۔
لبنان میں فلسطینیوں کے12 کیمپ
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امدادی ایجنسی (انروا) کے ریکارڈ کے مطابق لبنان میں 4,89,293 فلسطینی رجسٹرڈ ہیں، تاہم حقیقی اعداد و شمار اس سے کم ہیں اور تخمینہ ہے کہ اصل تعداد تقریباً 3 لاکھ ہے۔
فلسطینی پناہ گزین لبنان میں 12 کیمپوں میں آباد ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اور "خطرناک ترین" شمار ہونے والا عین الحلوہ کیمپ ہے۔ اس کے علاوہ میہ و میہ، الرشیدیہ، البص، برج الشمالی، برج البراجنہ، صبرا و شتیلا، بیروت میں مار الیاس، شمالی لبنان میں نہر البارد، شمالی لبنان میں البدوی، بعلبک میں الویفل اور جبل لبنان میں ضبیہ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ فلسطینی اسلحہ جمع کرنے کا یہ منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ بیروت کے برج البراجنہ کیمپ سے شروع ہوا، اس کے بعد صور میں البص کیمپ، پھر شمال میں البدوی کیمپ اور آخر میں جنوب میں الرشیدیہ کیمپ شامل ہوں گے۔
-
لبنان : امریکی ایلچی ٹام بیرک کو احتجاج کے پیش نظر جنوبی لبنان کا دورہ منسوخ کرنا پڑا
لبنان کے دورے پر آئے امریکی ایلچی نے بدھ کی شام جنوبی لبنان کا طے شدہ دورہ منسوخ ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ کے زخم بھول گئے، لبنان کے ساتھ اسد دور کے تعلقات کو پیچھے چھوڑ رہے: احمد الشرع
لبنان کے بارے میں سعودی عرب، فرانس اور امریکہ کے ساتھ اتفاق رائے ہے لیکن اس پر عمل ...
مشرق وسطی -
لبنان میں فلسطینی کیمپوں سے اسلحہ جمع کرنے کے بڑے آپریشن کا آغاز، سات ٹرک تحویل میں لے لی
لبنانی فوج نے جمعرات کو فلسطینی کیمپوں سے اسلحہ واپس لینے کے حکومتی فیصلے پر عمل ...
مشرق وسطی