قیدی کی غزہ سے واپس آنے والی باقیات کی شناخت ہو گئی: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس ہفتے غزہ سے بازیاب شدہ دو مغویوں میں سے دوسرے کی باقیات کی شناخت ہو گئی ہے جو ایک طالبِ علم ادان شتیوی کی ہے۔

بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا، "غزہ کی پٹی میں ایک خصوصی کارروائی کے نتیجے میں ادان شتیوی کی لاش واپس ملی۔"

اسرائیلی فوج نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایلان ویز کی لاش اور ایک اور قیدی کی باقیات برآمد کر لیں جن کا نام ابتدائی طور پر جاری نہیں کیا گیا تھا۔

وزیرِ اعظم کے دفتر نے مزید کہا، "انسٹی ٹیوٹ آف فرانزک میڈیسن میں شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد آج شام کو ان کی اسرائیل واپسی کا اعلان کرنے کی اجازت دی گئی۔"

ایدان شتیوی کی عمر 28 سال تھی جب وہ سات اکتوبر 2023 کو نووا میوزک فیسٹیول میں ہلاک ہو گئے۔ وہاں وہ فوٹوگرافر کے طور پر شرکت کر رہے تھے۔

انہوں نے دو دوستوں کے ساتھ جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی گاڑی کو قابو میں نہ رکھ سکے جو ایک درخت سے ٹکرا گئی۔ گاڑی گولیوں سے چھلنی پائی گئی۔

ایک سال تک ان کے خاندان کو ان کے زندہ ہونے کی امید تھی۔ پھر حملے کی پہلی برسی کے موقع پر حکام نے اطلاع دی کہ نوجوان میلے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ شتیوی اور ویز کی لاشیں ایک "پیچیدہ ریسکیو کارروائی" میں برآمد کی گئیں۔

قیدیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم کے مہم کار گروپ نے کہا کہ ایدان شتیوی کی لاش کی واپسی اس بات کی نشان دہی کرتی تھی کہ "ایک نامکمل اور غیر یقینی معاملہ اپنے انجام کو پہنچ گیا اور ریاست اسرائیل اپنے شہریوں کے لیے بنیادی ذمہ داری پورا کرے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں