ترکیہ کے صدر طیب ایردوان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ویزوں کو روکنے کا فیصلہ فوری واپس لے۔ تاکہ فلسطینی قائدین جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرسکیں جو اسی ماہ کے اواخر میں نیو یارک میں ہونے جا رہا ہے۔
امریکہ نے پچھلے ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے دیگر ساتھیوں کو جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیو یارک کا ویزا جاری نہیں کرے گا۔
ایردوان نے اس امر کا مطالبہ شنگھائی کانفرنس کے دوران سائیڈ لائنز میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد کیا۔
یاد رہے جنرل اسمبلی کا متوقع اجلاس فلسطینی ریاست کے حوالے سے غیرمعمولی طور پر اہم ہے۔ جہاں ایک جانب غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ہزاروں عورتوں اور بچوں کی ہلاکت جنرل اسمبلی کے اجلاس کا اہم موضوع ہوگا۔ وہیں یہ اجلاس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بڑی پیش رفت کا پیش خیمہ بننے جا رہا ہے۔
فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی اعلان کر رکھا ہے وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں گے۔ اس سلسلے میں فرانس کے صدر میکروں کا اعلان سب سے زیادہ اہم تھا جس کے بعد باقی ملکوں نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا۔
امریکہ اور اسرائیل اپنے انتہائی اہم اتحادیوں کے ان اعلانات پر سخت ردعمل کا اظہار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب غزہ کے لیے اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ منصوبہ جس کے تحت غزہ سے فلسطنیوں کا مکمل انخلا ممکن بنانا اور غزہ کو بالآخر امریکی کنٹرول میں دینا شامل ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کی کوششیں جاری ہیں۔
یاد رہے غزہ میں اب تک 6300 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا جا چکاہے جن میں بڑی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ جبکہ 300 سے زائد فلسطینی صرف بھوک اور قحط کو غزہ میں ہتھیار بنا کر قتل کر دیے گئے ہیں۔ اس پر عالمی برادری حتیٰ کہ یورپی ملکوں میں بھی سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔
امریکہ نے اس ماحول میں فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ حکام کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکنے کے لیے ان کے ویزوں میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ امریکی دفتر خارجہ نے محمود عباس اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش بھی کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا تعلق دیرینہ ہے۔ اس لیے فلسطین کو یکطرفہ تسلیم کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
نیٹو کے رکن ترکیہ نے امریکہ کے اس فیصلے پرسخت تنقید کی ہے اور غزہ میں اسرائیلی قتل و غارتگری کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترکیہ کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری اسرائیل کی حمایت بند کرے۔
پچھلے ہفتے سے ترکیہ نے یہ بھی مطالبہ کرنا شروع کیا ہے کہ اسرائیل کی جنرل اسمبلی کی رکنیت معطل کی جائے اور جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے اسرائیل کو روکا جائے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیضان کا کہنا ہے کہ یورپی ملکوں کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی برادری نے اسرائیل کو دباؤ میں لانا شروع کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کے لیے اقوام متحدہ کی سطح پر مربوط کوششیں کرنی کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے بھی جنرل اسمبلی کو کام کرنا چاہیے۔
-
بیلجیم کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ، اسرائیل پر سخت پابندیاں عائد
اقدام فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ اقدام کا حصہ ہے:بیلجین وزیر خارجہ
بين الاقوامى -
غزہ کی پٹی : منگل کی صبح اسرائیلی حملوں میں 13 فلسطینی جاں بحق
نسل کشی کے نمایاں محققین نے اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگایا
بين الاقوامى -
سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے لیے اپنے مواقف پر ثابت قدم ہے : محمود عباس کی "العربیہ" سے گفتگو
ریاض مقبوضہ اراضی میں سیاسی یا آبادیاتی حقائق کی تبدیلی کو مسترد کرتا ہے
مشرق وسطی