اسرائیل کا مغربی کنارے کو ضم کرنا ہمارے لیے سرخ لکیر ہے : امارات

ہمارے پیغامات واضح ہیں ... دو ریاستی حل ہی امن کا راستہ ہے : انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

متحدہ عرب امارات نے مغربی کنارے کو اپنی ’ریڈ لائن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے اس علاقے کا الحاق کیا تو ابراہیمی معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ الحاق (Annexation) کا مطلب یہ ہوگا کہ دو ریاستی حل ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے گا اور علاقائی انضمام کا خواب ختم ہوجائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ سفارتکار اور وزیرِ خارجہ کی خصوصی ایلچی لانا نسیبہ نے ان خیالات کا اظہار اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کو انٹرویو میں کیا۔

لانا نسیبہ نے کہا کہ اسرائیل کا مغربی کنارے کو خود میں ضم کرنے کا غیر منصفانہ اقدام خطے میں کسی بھی پائیدار امن کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے گا۔

خصوصی ایلچی کا کہنا تھا کہ ہر عرب ملک اب بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی پر بات کرنے کو تیار ہے، لیکن اگر اسرائیل انتہا پسند عناصر کو خوش کرنے کے لیے مغربی کنارے کا الحاق کرتا ہے تو یہ موقع ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستیں بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا سکتی ہیں، لیکن اس کی شرط یہی ہے کہ اسرائیل نہ صرف الحاق ترک کرے بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ٹھوس اور ناقابلِ واپسی راستہ اختیار کرے۔

اسی تناظر میں امارات کے صدر کے مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی امن کا راستہ ہے، اور متحدہ عرب امارات کا پیغام واضح ہے کہ مغربی کنارے کا انضمام ناقابلِ قبول ہے۔ امارات نے آباد کاری اور توسیع پسند منصوبوں کو بھی خطے کے استحکام اور امن کی کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے حکومت کا اجلاس بلا کر مغربی کنارے کے تمام کھلے علاقوں پر اسرائیلی خود مختاری نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ خلیجی ممالک نے ان مطالبات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

ادھر امریکی ویب سائٹ "ایکسيوس" کے مطابق اسرائیل سنجیدگی سے مغربی کنارے کے الحاق پر غور کر رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر اسرائیل کی پوزیشن طے کریں گے۔ رپورٹوں کے مطابق اسرائیل مغربی کنارے کے تقریباً 60 فی صد علاقے کو ضم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں