حزب اللہ کا جنوبی دریائے لیطانی میں تعاون روکنے کا اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی حکومت کے اجلاس سے صرف تین دن قبل توجہ بعبدا کی جانب مرکوز ہے، جہاں فوج کے کمانڈر جنرل روڈولف ہیكل اپنی منصوبہ بندی پیش کریں گے تاکہ تمام ہتھیار صرف ریاست کے کنٹرول میں ہو۔

متوقع اجلاس جسے بغیر ووٹنگ کے اتفاق رائے سے منظور کرانے کا ارادہ ہے، ابھی بھی رابطوں اور مشاورتوں کے گرد گھرا ہوا ہے۔ اس میں موقف دو رخا ہے یا تو منصوبہ مکمل طور پر منظور کیا جائے یا صرف اس سے آگاہی حاصل کی جائے۔

اب تک توقع یہی ہے کہ "شیعہ" وزراء (حرکت امل اور حزب اللہ) اجلاس میں شریک ہوں گے، لیکن اگر منصوبے میں عملدرآمد کے لیے وقت کی حد شامل کی گئی تو وہ تفصیلات پر بات کرنے سے انکار کریں گے۔

حزب اللہ نے کل شام اپنی میڈیا چینل المنار کے ذریعے خبردار کیا کہ اگر حکومت منصوبے میں وقت کی حد رکھتی ہے تو حزب اللہ جنوبی نہر اللیطانی میں کسی قسم کا تعاون نہیں کرے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے وزیراعظم نواف سلام پر الزام لگایا کہ وہ ایسی حکمت عملی پر قائم ہیں جس کے نتیجے میں ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سابق نائب اسٹاف چیئرمین برائے منصوبہ بندی ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل زیاد الهاشم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "جنوب نہر اللیطانی میں حالیہ تجربے سے یہ ظاہر ہوا کہ حزب اللہ ہتھیاروں کی مکمل رجسٹریشن میں تعاون نہیں کرتی۔ فوج اور یونیفیل نے کئی ہتھیار کے ذخائر اور محفوظ فوجی تنصیبات دریافت کیں۔ کچھ تنصیبات کو ڈسماونٹ کرتے ہوئے دھماکے بھی ہوئے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حزب اللہ نے فوج کو ذخائر اور ان کے مواد سے آگاہ نہیں کیا"۔

لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام
لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام

خیال رہے کہ حکومت نے گذشتہ ماہ (اگست 2025ء) ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور فوج کو ہدایت دی کہ وہ اس کا منصوبہ اس سال کے آخر تک تیار کرے۔

حزب اللہ نے اس فیصلے کے خلاف اپنے موقف کا اعادہ کیا، ہتھیار کے تحفظ کی حمایت کی اور فیصلہ کو "بڑی غلطی" قرار دیا، جس سے ممکنہ تصادم کا اشارہ ملتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں