غزہ : محاصرے اور بھوک کے سبب جان کی بازی ہارنے والے بچوں کی تعداد 131 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی وزارتِ صحت نے آج بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے محاصرے کے دوران غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں قحط اور غذائی قلت کی وجہ سے چھ افراد موت کا شکار ہو گئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

وزارتِ صحت نے بیان میں کہا کہ "قحط کے شکار افراد کی مجموعی تعداد 367 ہو گئی ہے، جن میں 131 بچے شامل ہیں"۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ IPC کی جانب سے 22 اگست 2025 کو غزہ کی پٹی میں با ضابطہ طور پر قحط کے اعلان کے بعد سے اب تک 89 افراد بھوک کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا چکے ہیں، جن میں 16 بچے بھی شامل ہیں۔

وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ میں انسانی بحران ... محاصرے اور خوراک و طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ وزارت نے عالمی برادری اور امدادی اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل دہرائی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہزاروں اسرائیلی فوجی غزہ شہر پر حملے اور اس پر قبضے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ عالمی اور اقوامِ متحدہ کی سطح پر انسانی بحران کے بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کے سوا تمام ارکان نے گزشتہ ماہ کے آخر میں کہا تھا کہ غزہ میں قحط "انسانی ساختہ بحران" ہے، اور جنگ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ممانعت بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ہے۔

اقوامِ متحدہ نے بھی گزشتہ ماہ رسمی طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کیا اور بتایا کہ 5 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں جنگ کے شروع ہونے کے بعد فلسطینی علاقے پر سخت محاصرہ لگایا تھا، جسے مئی 2025 میں تھوڑا نرم کیا گیا، مگر بعد ازاں امدادی سامان کی آمد دوبارہ روک دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size