پانچ سالہ شہید ھند رجب پر بننے والی فلم کی ڈائریکٹر کوثر بن ھنیہ نے کہا ہے کہ مظلوم اور جنگ زدہ فلسطینیوں کی آواز بنے گی۔ انہوں نے اس امر کا اظہار وینس میں جاری فلم میلے کے دوران اپنی نگرانی میں بنائی جانے والی فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کیا ہے۔
پانچ سالہ ھند رجب اگرچہ اکیلی فلسطینی بچی نہیں جسے اسرائیلی ریاست کی فوج نے اپنی جارحانہ اور اب تک کی بد ترین جنگ میں قتل کیا ہے بلکہ ہزاروں ایسی بچیاں اور بچے ہیں جنہیں انتہائی کم سنی میں اسرائیلی ریاست نے انتہائی خوفناک بمباری کر کے قتل کیا ہے۔
تاہم ھند رجب کی شہادت جس انداز سے ہوئی وہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کی بے بسی کی اموات کا ایک اہم حوالہ بن گئی اور اس پانچ سالہ بچی کی ہلاکت کو عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ نے بہت توجہ دی۔
یاد رہے پانچ سالہ ھند رجب کی لاش 29 جنوری 2024 کو ایک ایسی گاڑی سے ملی تھی جسے غزہ میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے چھلنی کر دیا تھا۔
کم سن ھند نامی فلسطینی بچی کی آواز آخری بار ایک فون کال پر سنی گئی۔ یہ کال اس نے زخمی حالت میں ہلال احمر کو کی تھی۔ اس کی آواز درد میں ڈوبی ہوئی تھی۔
ھند رجب کا خاندان غزہ سے نقل مکانی کر رہا تھا کہ راستے میں اس خاندان کو بھی اسرائیلی فوج نے گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اسی موقع پر ھند رجب نے اپنی شہادت سے پہلے ہلال احمر سے اپنے زخمی خاندان کے لیے مدد مانگی تھی کہ انہیں بچایا جا سکے۔
تاہم کچھ دیر بعد یہ ننھی سی آواز بھی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ اس معصوم بچی کی اس بے بسی کی موت پر عالمی سطح پر کافی شور اٹھا تھا۔
وینس فلمی میلے میں ھند رجب پر بننے والی فلم 'وائس آف ھند رجب' کا بھی کافی چرچا رہا ہے۔' وائس آف ھند رجب' وینس میلے کے مقابلے میں موجود 21 میں سے ایک اہم فیچر ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے فلم ڈائریکٹر کوثر نے کہا ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا بھر میں جو بیانیہ چل رہا ہے اس میں اہم نکتہ یہی ہے کہ غزہ میں 'کولیٹرل ڈیمج' کا شکار ہو رہے ہیں۔ لیکن کوثر بن ھنیہ کا کہنا ہے کہ یہ انداز فکر انتہائی غیر انسانی ہے۔
انہوں نے کہا یہ سینما ، آرٹ اور ہر طرح کے اظہار رائے کے حق کا اہم ذریعہ ہے۔
اس موقع پر فلم ڈائریکٹرز نے فیسٹیول کے منتظمین پر زور دیا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کی مذمت کریں۔
خیال رہے 'گولڈن لائن پرائز' میں شامل 21 فلموں میں کوثر بن ھنیہ کی فلم بھی شامل ہے۔
کوثر بن ھنیہ نے کہا یہ فلم میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں نے پہلی بار جب ھند رجب کی آواز سنی تو اس کی آواز میرے لیے کسی بھی آواز سے بڑھ کر تھی۔ اس کی آواز نے ہی مجھے فلم بنانے پر مجبور کیا۔
-
غزہ کی چھ سالہ ہند رجب کی موت ہم سب کے لیے شرمناک
ہم امید کرتے ہیں کہ کسی اور بچے کو زندہ رہنے کے لیے اپنے چچا، خالہ اور تین کزنوں ...
سیاست -
فلسطینی بچی ہند رجب پر فلم: بریڈ پٹ، جوکوئن فینکس کی بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر شمولیت
فلم کا بہت زیادہ انتظار ہے، کئی فلمی میلوں میں پیش کی جائے گی
بين الاقوامى -
انہوں نے اسے 2 بارقتل کیا:12 روزسےاسرائیلی فائرنگ میں پھنسی فلسطینی بچی ہند رجب والدہ
6 سالہ ہند اپنے خاندان کے ہمراہ اسرائیلی فائرنگ میں پھنسے ہوئے کئی دن بعد ہلاک ہو ...
مشرق وسطی -
امریکا کا 6 سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ
امریکی حکومت نے چھ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی "دل دوز" موت کی تحقیقات کا مطالبہ ...
مشرق وسطی