ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان نے اطلاع دی کہ ایران نے ہفتے کے روز ایک شخص کو پھانسی دے دی جس پر الزام تھا کہ اس نے 2022 میں مہسا امینی کی موت سے پیدا ہونے والی بدامنی کے دوران ایک سکیورٹی افسر کو قتل کیا۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا ہے کہ حکام اکثر ملزمان کو سزا دینے کے لیے تشدد کے تحت حاصل کردہ جبری اعترافات پر انحصار کرتے ہیں۔
میزان نے کہا کہ مہران بہرامیان صوبہ اصفہان کے علاقے سمیرم میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے حملہ آوروں میں شامل تھا جس کی وجہ سے دسمبر 2022 میں گولی لگنے سے افسر محسن رضائی کی موت واقع ہو گئی تھی اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔
ستمبر 2022 کے وسط میں قانونِ حجاب کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی ایران کی اخلاقی پولیس کے زیرِ حراست موت کے بعد پرتشدد احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور ہفتے کی پھانسی سے ان میں شامل افراد کی تعداد کم از کم 10 ہو گئی ہے جن کو سزائے موت دی گئی۔
مہسا امینی کی موت "زن، زندگی، آزادی" کے نعرے کے تحت ملک گیر مظاہرے کی وجہ بن گئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ بہرامیان کے بھائی فضل کو بھی اسی الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان کے بھائی مراد بہرامیان کو 2022 کے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ زدوکوب کر کے، طویل قیدِ تنہائی اور زیرِ حراست افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف دھمکیوں سے حاصل کردہ اعترافِ جرم کو عدالت میں بطور ثبوت استعمال کیا جاتا ہے۔