بیت المقدس میں راموت حملے کے پیچھے سیکیورٹی میں خلا تھا : تحقیقات میں انکشاف

العربیہ کے نمائندے کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ حملہ آور سیکورٹی باڑ میں موجود ایک خلا کے ذریعے اندر داخل ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی داخلہ سیکیورٹی ایجنسی "شاباک" نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے علاقے طور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس پر شبہ ہے کہ اس نے راموت میں پیش آنے والے واقعے کے مبینہ حملہ آوروں کو جائے واردات تک پہنچایا تھا۔ اس حملے میں کئی اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق خیال ہے کہ حملہ آور کارروائی سے پہلے سیکورٹی باڑ میں موجود ایک خلا کے ذریعے اندر داخل ہوئے تھے۔ اسی دوران اسرائیلی فوج نے بیت المقدس کے شمال مغرب میں واقع قصبے قطنہ میں چھاپے مارے اور کئی گرفتاریاں کیں، جو اس حملے سے منسلک بتائی جا رہی ہیں۔

حملے میں 7 افراد ہلاک اور 15 زخمی

العربیہ کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد 15 ہے۔ تاہم ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے محرکات سامنے نہیں آئے۔

امدادی اداروں نے پہلے بتایا تھا کہ 15 افراد کو گولیاں لگنے سے زخم آئے، جن میں کم از کم پانچ کی حالت نازک ہے۔ جائے وقوع پر پہنچنے والے طبی عملے نے زخمیوں کو سڑک اور فٹ پاتھ پر پڑا ہوا پایا، ان میں بعض بے ہوش تھے۔

یہ حملہ مشرقی بیت المقدس کے علاقے راموت کے داخلی حصے میں ایک بس اسٹاپ پر کیا گیا، جہاں دو مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ اسرائیلی پولیس کے بیان کے مطابق موقع پر موجود ایک سیکیورٹی اہل کار اور ایک شہری نے فوری جوابی کارروائی کر کے دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

مزید چھاپے اور محاصرہ

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جائے واردات پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا "یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ایسی وارداتیں ہمارے دہشت گردی کے خلاف عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔"

انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیتسلئیل سموٹرچ نے اس حملے کا الزام فلسطینی اتھارٹی پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ادارہ اپنے بچوں کو یہودیوں کو قتل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔" انھوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "فلسطینی اتھارٹی کو نقشے سے مٹا دینا چاہیے، اور جس گاؤں سے حملہ آور آئے ہیں، ان کا انجام بھی رفح اور بیت حانون جیسا ہونا چاہیے"۔

یہ دونوں غزہ کے وہ علاقے ہیں جن کو اسرائیلی فضائی حملوں میں تباہ کیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فورسز حملے سے تعلق رکھنے والے مزید مشتبہ افراد کی تلاش کر رہی ہیں اور اس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے گرد و نواح کے کئی فلسطینی دیہات کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں