بیروت کے جنوب میں واقع قصبے میں ایک گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملہ
اسرائیلی حملہ لبنانی دار الحکومت کے جنوب میں تقریباً 30 کلومیٹر دور الجیہ شہر کے قریب ہوا
اسرائیلی فوج نے آج منگل کے روز بیروت کے جنوب میں تقریباً 30 کلو میٹر دور واقع شہر الجیہ کے قریب ایک گاڑی کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دی۔
ایجنسی کے مطابق "دشمن ڈرون نے زاروت کے علاقے کے قریب ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، یہ علاقہ الجیہ اور برجہ کے درمیان الخروب ضلعے میں واقع ہے"۔
فرانس پریس کے ایک فوٹوگرافر نے حملے کی جگہ پر تباہ حال جلتی ہوئی گاڑی دیکھی جو مسجد کی دیوار سے ٹکرائی ہوئی تھی، جبکہ لبنانی فوج کے اہل کار موقع پر موجود تھے۔
یہ حملہ لبنان کے مشرق میں اسرائیلی فضائی حملوں کے سلسلے کے بعد ہوا، جن میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ بات لبانی وزارت صحت کی جانب سے بتائی گئی۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ مذکورہ حملہ حزب اللہ کے علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا، جن میں "رضوان فورسز کے کیمپ" بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں میں تقریباً روزانہ فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخائر اور اس کے ارکان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تل ابیب نے دھمکی دی ہے کہ حزب اللہ کو دوبارہ اپنے ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور لبنان کی حکومت نے اگر حزب اللہ کا اسلحہ نہ لیا تو حملے جاری رہیں گے۔
لبنان اور اسرائیل نے نومبر 2024 میں امریکی ثالثی میں ایک معاہدہ کیا تھا، جس نے ایک سال سے جاری شدید تنازع کو ختم کیا۔ اس معاہدے کے تحت حزب اللہ کو نهر ليطانی کے جنوب کے علاقے سے پیچھے ہٹنا تھا اور وہاں اپنا فوجی ڈھانچا ختم کرنا تھا، جبکہ لبنان میں ہتھیار رکھنے کا حق صرف سرکاری اداروں تک محدود ہونا تھا۔
معاہدے میں جنگی کارروائیوں کا خاتمہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے دوران قبضہ شدہ مقامات سے انخلا بھی شامل تھا، تاہم اسرائیل نے جنوب لبنان کے پانچ ٹیلوں پر اپنی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
لبنانی حکومت نے گزشتہ جمعے کو فوج کی جانب سے پیش کردہ حزب اللہ کا اسلحہ ہٹانے کے منصوبے کو سراہا اور اعلان کیا کہ فوج اس پر عمل درآمد کرے گی۔ حکومت نے منصوبے کی تفصیلات اور اس کے نفاذ کے مراحل کو خفیہ رکھا ہے۔