عرب دنیا کی قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

متعدد ممالک نے قطر پر کیے گئے اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ اسرائیل نے منگل کی شام انتہائی اہم خلیجی ملک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بمباری کر کے حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کا کہا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی حملے کو جارحانہ اور بزدلانہ حملہ قرار دیا ہے۔

امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے قطر پر اسرائیلی حملہ غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی کو بڑھانے کے لیے تھا۔ جس نے پورے علاقے اور بین الاقوامی سلامتی و استحکام کو خطرے میں ڈالا ہے۔

شیخ عبداللہ نے ایسے بے رحمانہ حملوں کے تسلسل کے حوالے سے خبردار کیا کہ اگر بین الاقوامی برادری فیصلہ کن انداز میں اسرائیل کے خلاف اپنے مؤقف کو سامنے نہیں لائے گی تو اس صورتحال کے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سنگین مضمرات ہوں گے۔

عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ عرب خلیجی ریاستوں کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے بیان میں کہا 'اللہ قطر، اس کی قیادت اور عوام کو محفوظ رکھے اور اللہ تمام خلیجی ریاستوں کو بھی محفوظ رکھے۔'

اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفادی نے قطر پر اسرائیلی حملے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا یہ اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کو وسیع تر کرنے کی کوشش ہے۔ جس سے خطے کی سلامتی و استحکام کو خطرہ ہوگا۔

ایمن الصفادی نے مزید کہا اسرائیل کو اپنے اقدامات اور جارحیت کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور اس کے تمام جرائم کے بدلے میں اسے حقیقی نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا اسرائیل کو ایسی جارحیت سے روکا جانا چاہیے۔ تاہم وزیر خارجہ نے اس بارے میں اشارہ نہیں کیا کہ اسرائیل کو کون روکے گا یا کس کو روکنا چاہیے۔

مصر کی طرف سے بھی قطر پر اسرائیلی حملے کو خطرناک مثال قرار دیا گیا ہے اور حملوں کو مسترد کیا گیا ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا اسرائیل کا یہ حملہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل ان تمام کوششوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو علاقے میں استحکام اور سلامتی کے لیے علاقے کے ملک کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size