اسرائیلی ریاست نے خطے میں اپنی مسلسل کامیابیوں کی دھاک بٹھانے کا سلسلہ اتوار کے روز بھی جاری رکھتے ہوئے پانچ لبنانیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ لبنانیوں کو عبرت سکھانے لیے ان کے تین بچوں کو بھی خون میں نہلا یا ہے۔
یہ سلسلہ اسرائیلی ریاست ایک عرصے سے اپنے اڑوس پڑوس میں کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیلی ریاست کا کوئی توڑ خطے میں موجود نہیں ہے۔
اتوار کے روز اسرائیل کی فوج نے مزید 5 لبنانیوں کے سر لیے ہیں۔ لبنانی وزارت صحت نے بھی ان پانچ نئی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
لبنان کے خبر رساں ادارے ' نیشنل نیوز ایجنسی ' کے مطابق اسرائیل نے بنت جبیل میں ایک موٹر سائیکل سوار کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی کہہ دیا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے ایک اہلکار کو نشانہ بنانے کے لیے بمباری کی مگر اس بمباری سے دوسرے لبنانی بھی مارے گئے۔
اسرائیلی فوج اپنے طے شدہ معمول کے بعد جائزہ لے گی کہ یہ ہلاکتیں کس طرح ہوئیں۔
خیال رہے لبنان کے مختلف حصوں میں بمباری کرنا ، لوگوں کو ہلاک کرنا اور اس کے بعد ہلاکتوں کا جائزہ لینے کا فوجی بیان داغنا اسرائیلی فوج کا معمول ہے۔
اسی طرح لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے بھی اس واقعے پر ' ایکس ' پر اظہار افسوس کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست کی بمباری کا یہ واقعہ عام لبنانیوں کے خلاف شعوری طور پر کیے گئے جرائم کا حصہ ہے۔
دلچسپ بات ہے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کو 27 نومبر کو ایک سال ہو جائے گا۔ مگر اس دوران اسرائیل نے بمباری میں کبھی جنگ بندی کو آڑے نہیں آنے دیا ہے۔
اسرائیلی ریاست کی فوج بے خوف اور بے دھڑک انداز میں جسے چاہتی ہے نشانہ بناتی ہے۔ اب تک لبنانی فوج کے بقول اسرائیل کی فوج لبنانی خود مختاری اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 4500 بار جارحیت کر چکی ہے۔
لبنانی فوج ان دنوں حزب اللہ سے اسلحہ واپس لینے کی مہم چلا رہی ہے۔ جس کے لیے امریکہ کا دباؤ غیر معمولی طور پر بڑھا ہوا ہے۔