حزب اللہ کی ہٹ دھرمی ... صخرۃ الروشہ کو نصر اللہ کی تصویر سے روشن کرنے کے درپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اگرچہ لبنان کے وزیرِاعظم نواف سلام اس فیصلے پر قائم ہیں کہ "قدیم اور سیاحتی مقامات کو پیشگی اجازت نامے کے بغیر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی"، حزب اللہ نے سرکاری فیصلوں کو چیلنج کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔

گزشتہ روز بدھ کو لبنانی انجمن برائے فنون نے جو حزب اللہ کے قریب سمجھی جاتی ہے، بیروت کے گورنر کو "صخرۃ الروشہ" کے اطراف بنا اس چٹان کو روشن کیے ایک علامتی سرگرمی کے انعقاد کی درخواست دی تھی۔ گورنر مروان عبود نے اس درخواست کو قانون کی پابندی کی شرط کے ساتھ منظور کر لیا۔ صخرۃ الروشہ بیروت کے مغربی سمندر میں الروشہ علاقے کے ساحل کے قریب واقع دو بڑی چٹانوں پر مشتمل ایک سیاحتی مقام ہے۔

تاہم حزب اللہ نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو آج سہ پہر صخرۃ الروشہ کے اطراف جمع ہونے کی کال دی تا کہ وہاں پارٹی کے سابق دو سیکریٹری جنرلوں حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تصاویر روشنیوں کے ذریعے دکھائی جائیں۔ یہ براہِ راست وزیراعظم کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

ادھر العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے آج صبح ہی علاقے میں تعیناتی شروع کر دی ہے تاکہ سڑکوں پر کسی بھی قسم کے تصادم یا بد مزگی کو روکا جا سکے۔ بعض عمارتوں میں جو اس چٹان کے سامنے ہیں، وہاں بھی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔
اسی دوران حزب اللہ کے حامی کارکن اور صحافی سوشل میڈیا پر سرگرم ہو گئے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہونے کے لیے متحرک کیا جا سکے۔

یہ تنازع دراصل ایک ہفتہ قبل ہی بھڑک اٹھا تھا، جب لبنانی عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس تاریخی مقام پر جماعتی تصاویر لگانے کی مخالفت کی تھی۔ کئی ارکانِ پارلیمنٹ بھی اس بحث میں شامل ہوئے اور حزب اللہ کے اقدام کو مسترد کر دیا۔ اس کے برعکس پارٹی کے حامیوں نے اس فیصلے کا دفاع کیا اور بعض نے یہاں تک کہا کہ "نصر اللہ تمام لبنانیوں کا فخر ہیں"۔

صخرۃ الروشہ کا شمار بیروت کے سب سے نمایاں قدرتی مقامات میں ہوتا ہے۔ یہ سمندر کے کنارے واقع ہے اور اس کی اونچائی تقریباً 70 میٹر ہے۔ یہ چٹان ہزاروں برسوں میں تشکیل پانے والی ایک قدرتی یادگار ہے اور دار الحکومت کے قلب میں سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 27 ستمبر 2024 کو بیروت کے جنوبی نواح پر شدید فضائی حملوں کے دوران حسن نصر اللہ کو قتل کر دیا تھا۔ اسی طرح 3 اکتوبر کو ہاشم صفی الدین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس سے کچھ روز قبل 17 ستمبر کو پیجر دھماکوں کے ذریعے حزب اللہ کو بڑا نقصان پہنچایا گیا تھا، جب ہزاروں کارکنوں کے ہاتھوں اور چہروں پر اس وقت دھماکے ہوئے جب وہ اپنے وائرلیس آلات استعمال کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں