وفاقی نظام شام کے لیے موزوں حل نہیں ہے: امریکی ایلچی
آئندہ حکومت تمام برادریوں اور اقلیتوں کے حقوق یقینی بنائے گی
شام کے لیے امریکی ایلچی ٹوم براک کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کسی پر کوئی شرائط یا مطالبات مسلط نہیں کرتا، تاہم انھوں نے زور دیا کہ وفاقی نظام شام کے لیے موزوں حل نہیں ہے۔
براک نے توقع ظاہر کی کہ رواں سال کے اختتام سے پہلے ایک مرکزی اور جامع شامی حکومت تشکیل پا جائے گی۔
امریکی ایلچی نے جمعرات کو "روداو" نیٹ ورک سے گفتگو میں کہا کہ آنے والی حکومت تمام برادریوں اور اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنائے گی اور امریکی تعاون شامی کردوں سمیت تمام طبقات کے لیے بنا کسی شرط اور دباؤ کے ہو گا۔ براک کے مطابق امریکہ رہنمائی اور معاونت فراہم کرتا ہے لیکن کوئی امریکی یا یورپی ماڈل شامی عوام پر مسلط نہیں کرتا۔
انہوں نے شام کے صوبے سویداء کے واقعات کو "افسوس ناک" قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن ان کے دوبارہ وقوع کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی تناظر میں براک نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوآن کی ملاقات "انتہائی شان دار" رہی جس میں کئی امور زیر بحث آئے۔ ان امور میں شام میں جامع حکومت کی تشکیل کی کوششوں کے لیے تعاون بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق ترکی نے اس معاملے میں امریکہ کے کردار کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ شام سے متعلق ایک "اہم اعلان" کرنے جا رہے ہیں، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا "میں نے ان (شامیوں) کو سانس لینے کا موقع دینے کے لیے پابندیاں ختم کیں کیونکہ وہ پابندیاں بہت سخت تھیں، لیکن میرا خیال ہے کہ آج ہمیں ایک اہم اعلان جاری کرنا ہے"۔
خیال رہے کہ شامی صدر احمد الشرع امریکہ پہنچے اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک ہوئے، جو کئی دہائیوں کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی شرکت تھی۔