شام اور اسرائیل کے حال ہی میں ایک سکیورٹی معاہدہ کرنے کے قریب پہنچنے کے بعد تعطل آگیا ہے۔ چار ذرائع نے بتایا ہے کہ اس معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں آخری لمحات میں تعطل کا شکار ہو گئیں۔ ذرائع کے مطابق اس کی وجہ اسرائیلی مطالبہ ہے کہ جنوبی شام میں السویداء گورنریٹ تک ایک راہداری کھولی جائے۔
بنیادی نکات
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب فریقین نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران باکو، پیرس اور لندن میں مہینوں کے مذاکرات کے بعد معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق رائے نہیں کیا ہے۔ اس میں امریکہ نے ثالثی کی تھی اور جو اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل تیز ہو گئے تھے۔ اس معاہدے کا مقصد السویداء گورنریٹ پر مشتمل ایک غیر فوجی علاقہ قائم کرنا تھا جہاں گزشتہ جولائی میں بیدو اور دروز مسلح گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
واضح رہے شامی صدر احمد الشرع نے پہلے واضح کیا تھا کہ سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا تھا۔ اسی طرح اقوام متحدہ میں شام کے مندوب ابراہیم علی نے جمعرات کو العربیہ کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اعلیٰ مراحل میں ہیں۔
شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام باراک نے واضح کیا ہے کہ دمشق اور تل ابیب ایک تناؤ کم کرنے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت اسرائیل اپنے حملے روک دے گا۔ شام اسرائیلی سرحد کے قریب کسی بھی میکانزم یا بھاری سازوسامان کو حرکت نہ دینے پر راضی ہو گا۔
یاد رہے شام اور اسرائیل درحقیقت 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے جنگ کی حالت میں ہیں۔ اگرچہ وقفے وقفے سے پرسکون ادوار بھی رہے ہیں۔ لیکن گزشتہ 8 دسمبر کو شام کے سابقہ نظام کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے 1974 کی جنگ بندی کو ترک کر دیا ہے اور اس کی افواج مہینوں سے غیر فوجی علاقے میں گھس چکی ہیں۔ اسرائیلی افواج نے شامی فوجی اثاثوں پر بھی بمباری کی ہے اور ان کی افواج دمشق سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہیں۔