وائٹ ہاؤس نے غزہ میں جاری اسرائیلی ریاست کی بد ترین بمباری اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے ماحول میں اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ریاست اور مزاحمتی فلسطینی گروپ جنگ بندی کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے پیر کے روز کہا ہے کہ فریقین غزہ جنگ کو روکنے کے فریم ورک کے لیے ایک دوسرے کے نکتہ نظر کے قریب ہو گئے ہیں۔ تاکہ مشرق وسطیٰ کو پائیدار امن کے لیے ایک معاہدہ ممکن ہو سکے۔
کیرولین لیویٹ ' فاکس نیوز ' کے پروگرام 'فاکس اینڈ فرینڈز ' میں گفتگو کررہی تھیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے نیتن یاہو کی متوقع ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا دونوں رہنما مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے صدر ٹرمپ کا پیش کردہ اکیس نکاتی نئے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے ۔ یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں طے ہے۔
انہوں نے کہا صدر ٹرمپ پیر ہی کے روز قطر میں ان رہنماؤں سے بات چیت کریں گے جنہوں نے اسرائیل حماس جنگ بندی مذاکرات کے لیے کردار ادا کیا ہے۔
کیرولین لیویٹ نے کہا معقول معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف سے کچھ پیچھے ہٹے ہیں۔ ہو سکتا ہے میز سے جب اٹھیں تو تھوڑے کم خوش ہوں۔ لیکن ہم بالآخر اس لڑائی کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔
-
غزہ پر شدید بم باری ، اسرائیلی فوج کا الشفاء ہسپتال کے گرد علاقہ خالی کرنے کا حکم
اسرائیلی فوج نے غزہ کے مغربی علاقے النصر میں گھروں کو کئی ٹن دھماکہ خیز مواد سے ...
بين الاقوامى -
غزہ میں فوج کو 'کارروائی کی مکمل آزادی' دی جائے: اسرائیلی وزیر کا مطالبہ
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ نے پیر کو اصرار کیا کہ فوج کی غزہ میں ...
مشرق وسطی -
شاہ سلمان ریلیف مرکز کی طرف سے غزہ کے لیے نیا امدادی قافلہ روانہ
سعودی عرب کی نئی امدادی کھیپ رفح بارڈر کے ذریعے گزری، جس میں راشن کے پیکج اور بچوں ...
بين الاقوامى