اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ نارملائزیشن سے مختلف ہے: دمشق کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے تصدیق کی کہ اسرائیل کی جانب سے ان کے ملک کے مخلتف علاقوں پر حملوں نے دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو "مشکلات" سے دوچار کر دیا ہے۔

دوسری جانب شامی وزیر اطلاعات حمزہ المصطفی نے بھی واضح کیا ہے کہ "اسرائیل کے ساتھ زیر غور سکیورٹی معاہدہ نارملائزیشن سے بالکل مختلف ہے"۔

اس امر کا اظہار انہوں نے "العربیہ" نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام "اوٹ آف دی باکس" کو ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں اسعد الشیبانی نے بتایا کہ شامی مذاکراتی ٹیم کے اسرائیلیوں کے ساتھ تین ادوار ہو چکے ہیں، تاہم حالیہ اسرائیلی حملوں نے معاملات کو پیچیدہ کر دیا ہے۔

ادھر اسرائیل اپنے تیئں"تصادم کے امکانات کے خاتمے کے معاہدے مجریہ 1974" کو بھی یکطرفہ طور پر منسوخ قرار دے چکا ہے۔

دروز قیادت کا سخت گیر موقف

شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ملک کے جنوبی صوبے السویداء میں دروز قبیلے کے رہنما "حکمَت ہجری اب بھی سخت گیر موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔"

تاہم ایک اور سوال کے جواب میں اسعد الشیبانی نے انٹرویو میں واضح کیا "کہ شامی حکومت السویداء میں مختلف سرداروں اور دروزوں کے درمیان تنازع کے متاثرین کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔"

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ "کئی دہائیوں کی دوریوں کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات اچھے اور مثبت ہیں"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دمشق حکومت اور عوام شام کے لیے سعودی عرب کی حمایت کو ہم انتہائی قدر ومنزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

متعدد باخبر ذرائع کے حوالے سے برطانوی خبر رساں ایجنسی "رائیٹرز" نے گذشتہ روز ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ السویداء صوبے تک راستہ کھولنے کی اسرائیلی شرط کے باعث شام اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں آخری لمحوں میں تعطل کا شکار ہوئیں۔

امریکہ کی ثالثی میں پیرس، لندن اور باکو میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد شام اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ سکیورٹی معاہدے کے بنیادی نکات پر چند ہفتے قبل ہی اتفاق ہوا تھا۔ تاہم گذشتہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل اس مذاکراتی عمل میں تیزی دیکھنے میں آئی۔

معاہدے کے تحت السويداء صوبے میں اسلحے سے پاک علاقہ قائم کیا جائے گا جہاں اسی سال جولائی کے مہینے میں مقامی بدووں اور الدروز قبیلے کے مسلح جتھوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ شامی صدر احمد الشرع اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات کے بارے میں مثبت اور پر امید رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ شام کے لئے یو این نمائندے ابراہیم علی نے العربیہ/الحدث کو گذشتہ جمعرات کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ کافی آگے بڑھ چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں