صخرہ الروشہ ایک بار پھر سرخیوں میں … لبنان میں عدالتی حکم پر دو افراد کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بیروت میں معروف سیاحتی مقام صخرۃ الروشہ (چٹان) کو روشن کرنے کے واقعے نے لبنان میں سیاسی و قانونی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے سرکاری پابندی کے باوجود اس چٹان کو حزب اللہ کے رہنماؤں کی تصاویر سے روشن کیا گیا تھا۔ اس پر بدھ کو لبنانی عدلیہ نے اس کارروائی کے ذمے دار دو افراد کے خلاف تفتیشی نوٹس جاری کیا۔

لبنانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق اٹارنی جنرل جمال الحجار نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب دونوں افراد کو طلبی کے احکامات جاری ہونے کے باوجود وہ تحقیقات میں پیش نہ ہوئے۔اگرچہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، مگر سوشل میڈیا پر الزامات حزب اللہ کے تعلقات و رابطہ کاری یونٹ کے سربراہ وفیق صفا کی طرف گئے جو 20 ستمبر کو تنظیم کی تقریب میں الروشہ پر موجود تھے۔

پچھلے ہفتے حزب اللہ نے حسن نصراللہ اور ہاشم صفی الدین کی برسی کے موقع پر اپنے حامیوں کا بڑا اجتماع منعقد کیا اور صخرۃ الروشہ کو دونوں رہنماؤں کی تصاویر سے روشن کیا، حالانکہ بیروت کے گورنر نے کسی بھی سیاسی علامت کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس پر وزیرِاعظم نواف سلام نے سیکیورٹی اور عدالتی اداروں کو ہدایت دی کہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور انھیں گرفتار کر کے تحقیقات کے لیے پیش کیا جائے۔

جواب میں حزب اللہ کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر وزیرِاعظم پر بیرونی طاقتوں کے تابع ہونے اور "غداری" کے الزامات عائد کیے، جبکہ بعض نے دعویٰ کیا کہ جماعت نے حکومت کو چیلنج کر کے اپنی بات منوا لی۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 27 ستمبر 2024 کو حسن نصراللہ اور 3 اکتوبر کو ہاشم صفی الدین کو بیروت میں فضائی حملوں میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد حزب اللہ کو غزہ کی حمایت میں لڑی گئی لڑائی کے دوران شدید عسکری و سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ اگست 2025 میں حکومت نے حزب اللہ سے اسلحہ ریاست کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن جماعت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں