شام میں بشارالاسد کے بعد پہلا پارلیمان آج منتخب ہوگا
چھ ہزار سے زائد انتخابی یونٹ مجموعی طور پر 1570 امید واروں کوووٹ دیں گے، انیس نشستیں خالی رہنے کا امکان
شام میں آج اتوار کے روز انتخابی اداروں کے ارکان نئے ارکانِ پارلیمان کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں، جو ملک کے لیے بشارالاسد کے دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد ایک نئے سیاسی مرحلے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
کل چھ ہزار ووٹرز مختلف علاقائی انتخابی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک (مقامی وقت کے مطابق) ووٹ ڈالیں گے۔
عبوری صدر احمد الشرع کے نامزد کردہ الیکشن کمیشن نے 1570 امیدواروں کی منظوری دی ہے جن میں 14 فیصد خواتین شامل ہیں۔ ان امیدواروں نے رواں ہفتے کے دوران اپنے انتخابی پروگرام مناظروں اور عوامی نشستوں میں پیش کیے۔ موجودہ انتخابی ضابطے کے مطابق کوئی بھی امیدوار سابق نظام کا حامی یا ملک کی تقسیم و علیحدگی کا داعی نہیں ہونا چاہیے۔
نیا پارلیمان جس کی مدتِ کار 30 ماہ ہوگی اور جس میں توسیع کی جا سکتی ہے براہِ راست عوامی ووٹ کے ذریعے نہیں بلکہ آئینی اعلان کے تحت مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق تشکیل پائے گا۔ اس طریقے کے تحت علاقائی انتخابی ادارے دو تہائی نشستوں پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے، جبکہ باقی ایک تہائی ارکان کا تقرر صدر احمد الشرع خود کریں گے۔
آج ہونے والی ووٹنگ سے 210 نشستوں پر مشتمل ایوان کے دو تہائی ارکان منتخب ہوں گے، اور نتائج کا اعلان بھی انہی گھنٹوں میں متوقع ہے۔ تاہم پارلیمان کا باضابطہ قیام صدر کی جانب سے باقی ارکان کے تقرر کے بعد ہی ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ عام ووٹنگ کے بجائے اس طریقہ کار کو اس لیے اپنایا گیا کیونکہ جنگ کے باعث لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے کے بعد آبادی کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
سکیورٹی اور سیاسی وجوہات کے باعث حکومت نے تین صوبوں میں انتخابی عمل مؤخر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 19 نشستیں فی الحال خالی رہیں گی۔ الیکشن کمیشن نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ السویداء، الرقہ اور الحسکہ صوبوں میں انتخابات “سکیورٹی چیلنجز” کے باعث ملتوی کیے گئے ہیں۔ بعد ازاں ستمبر میں الرقہ اور الحسکہ کے کچھ علاقوں جو حکومتی کنٹرول میں ہیں میں ضمنی انتخابی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔