اسرائیل خطے میں امن اور تعلقات کے دائرے کو وسعت دینا چاہتا ہے: گدعون ساعر
ڈونلڈ ٹرمپ ایک عظیم رہ نما ہیں اور اسرائیلی قوم ان کی احسان مند ہے:اسرائیلی وزیر خارجہ
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گدعون ساعر نے کہا ہے کہ اسرائیل خطے میں امن اور تعلقات کے دائرے کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ’’یرغمالیوں کے معاہدے‘‘ کے حق میں ووٹ دیں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے تصدیق کی کہ غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد حکومت کی منظوری کے بعد ہی شروع ہوگا، جس پر جمعرات کی شام ووٹنگ متوقع ہے۔
ساعر نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر پوسٹ کردہ جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ اسرائیل کے مفاد میں ہے کہ وہ خطے میں امن اور تعلقات کے دائرے کو وسعت دے۔
ٹرمپ کی تعریف
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’اسرائیل کے عظیم دوست اور ایک غیر معمولی رہنما ہیں، جن میں تاریخی مواقع کو پیدا کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت ہے‘‘۔ ساعر کے مطابق ’اسرائیلی قوم ان کی احسان مند ہے‘۔
حماس کی حکومت کا خاتمہ اسرائیل کا ہدف برقرار
گدعون ساعر نے واضح کیا کہ اسرائیل کے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے اپنے کسی بھی جنگی ہدف سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ’’ہم نے نہ تو غزہ میں حماس کی حکومت ختم کرنے کے ہدف کو ترک کیا ہے، نہ ہی اسرائیل کے خلاف اس کے خطرات کو ختم کرنے کے عزم سے پیچھے ہٹے ہیں‘‘۔
نئے سفارتی امکانات
گدعون ساعر نے امید ظاہر کی کہ ’’ مستقبل قریب میں اسرائیل کے لیے نئے سفارتی امکانات کے دروازے کھلیں گے‘‘۔ ان کے بہ قول ’’ہماری دلچسپی ہے کہ امن اور تعلقات کے دائرے کو مزید وسیع کیا جائے‘‘۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں انہوں نے کئی سفارتی معرکے لڑے ہیں جو ابھی مکمل نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں آئندہ دنوں میں عالمی محاذ پر نئے امکانات کے در کھولنے کے لیے کام جاری رکھوں گا‘‘۔
אלה רגעים היסטוריים לעם ישראל ולמדינת ישראל. ישראל גילתה עוצמות, נחישות ועמידות יוצאות דופן כאומה במשך שנתיים של מלחמה קשה במספר חזיתות. הצלחנו לשקם את דימוי העוצמה של ישראל באזור ובעולם מהמקום הנמוך בו היה אחרי ה-7 באוקטובר. הישגי ישראל במערכה הקיומית שנכפתה עליה הם אדירים.…
— Gideon Sa'ar | גדעון סער (@gidonsaar) October 9, 2025
دوسری جانب حماس نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی ثالثی سے طے پانے والے معاہدے میں غزہ میں جنگ کے مکمل خاتمے پر اتفاق ہوا ہے۔ تنظیم کے رہنما اسامہ حمدان نے جرمن خبررساں ادارے کو بتایا کہ ثالثوں نے اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہونے کی واضح ضمانت دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے اعلان کا اختیار امریکہ کے پاس ہے جو مذاکرات کا ضامن فریق ہے۔ حمدان کے مطابق یہ معاہدہ دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور دو ملین سے زائد فلسطینیوں کی انسانی مشکلات میں کمی کی سمت ایک اہم قدم ہے، جنہیں محاصرے اور تباہی نے شدید متاثر کیا ہے۔
اس دوران اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں اپنی فورسز کو نئی تعیناتی کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی کابینہ آج شام اس معاہدے پر ووٹ دے گی، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کیا تھا۔ یہ معاہدہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی کئی روزہ مشاورت کے بعد سامنے آیا، جس میں قطر، مصر، ترکیہ اور امریکہ کے نمائندوں نے حصہ لیا۔
ابتدائی مرحلے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ساتھ غزہ سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا پر اتفاق ہوا ہے۔
-
ہانیبال قذافی کو لبنان میں سنگین طبی حالت کا سامنا ہے: میڈیا
انھیں ڈپریشن اور پیٹ میں شدید درد کی وجہ سے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا
بين الاقوامى -
حماس اسلحہ جمع کرانے پر نہیں بلکہ منجمد کرنے پر آمادہ ہوئی ہے : مصری عہدے دار
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور اسرائیل و حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ...
مشرق وسطی -
جنگ بندی کا مطالبہ گزشتہ دو برس سے قائم رہا ہے : فلسطینی تنظیموں کا بیان
غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے آغاز کے ساتھ ہی پورے ...
مشرق وسطی