ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قاآنی کا نام گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایرانی صارفین کی گفتگو کا مرکز بنا رہا ہے۔
خبر گردش میں آئی کہ جنرل قاآنی زخمی ہو گئے ہیں، ان پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے، حتیٰ کہ ان کے مارے جانے کی افواہیں بھی پھیل گئیں۔ ان اطلاعات کے بعد پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلق رکھنے والی فارس نیوز ایجنسی نے وضاحت کی کہ یہ تمام خبریں من گھڑت ہیں۔
شایعهٔ شهادت سردار قآانی کذب است
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) October 10, 2025
از ساعاتی پیش شایعاتی دربارهٔ ترور و شهادت سردار قآانی در فضای مجازی منتشر شده که پیگیری فارس نشان میدهد این اخبار صحت ندارد. pic.twitter.com/Z1RRDaAI3B
ایجنسی نے ہفتے کی صبح اپنے ایک مختصر پیغام میں بتایا کہ قاآنی کے قتل یا زخمی ہونے سے متعلق تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔
مصاحبه هفته گذشته سردار قاآنی:
— behrooz azizi (@journalist13600) October 10, 2025
🔹رژیم صهیونیستی اخبار ترور من را منتشر می کند تا دوستان نگران شوند با من تماس بگیرند و این ها بتوانند جای دقیق من را پیدا کنند pic.twitter.com/aR63Xv5IXa
تاہم ایرانی سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس وضاحت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بعض نے یاد دلایا کہ یہی ایجنسی دو برس قبل اُس وقت بھی ایسی ہی تردید کر چکی تھی جب صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثے میں تباہ ہوا تھا۔
قاآنی کا اسرائیل سے متعلق انکشاف
دوسری جانب، کچھ ایرانی صارفین نے قاآنی کا ایک پرانا انٹرویو دوبارہ شیئر کیا، جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ گذشتہ جون میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران انہوں نے دیگر کمانڈروں سے رابطہ نہیں کیا، کیونکہ انہیں علم تھا کہ اسرائیل ان کی گفتگو کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ ان کے اور دیگر رہنماؤں کے ٹھکانے معلوم کیے جا سکیں۔
افواہوں کی جنگ
کچھ تجزیہ کاروں نے اس معاملے کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا۔
اسی دوران انکشاف ہوا کہ عبرانی زبان کے بجائے فارسی زبان میں سرگرم اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایک ’’بلیوٹک والے" تصدیق شدہ اکاؤنٹ نے سب سے پہلے یہ افواہ پھیلائی تھی۔ اس پیغام میں لکھا گیا تھاکہ ’’قاآنی کی مکمل صحت یابی اور طویل عمر کے لیے دعاگو ہیں۔ آپ کے تعاون کا شکریہ‘‘۔
آرزوی شفای کامل و طول عمر برای قاآنی داریم.
— Mossad Farsi (@MossadSpokesman) October 10, 2025
و سپاس از همکاری.
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران نے متعدد ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر اسرائیلی موساد کے ساتھ رابطے اور تعاون کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تل ابیب نے ایرانی فوجی سرگرمیوں سے متعلق کافی حساس معلومات حاصل کر لی تھیں۔