انڈونیشیا میں منعقد ہونے والی جمناسٹک کی عالمی چیمپئن شپ میں غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیلی ٹیم کو شرکت سے محروم کر دیا گیا۔اسرائیلی حکام کی طرف سے چیمپیئن شپ میں شرکت کی درخواست کو منگل کے روز مسترد کیا گیا ہے۔
یہ درخواست اسرائیل کی شرکت کی ضمانت چاہنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔
انڈونیشین حکام نے اسی ماہ ہونے والی جمناسٹک چیمپیئن شپ کے حوالے سے اسرائیلی ٹیم کو ویزا دینے سے انکار کیا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی ادارے 'آئی جی ایف' نے بین الاقوامی کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹس سے درخواست کی تھی کہ اسرائیلی ٹیم کو بھی اس میں شرکت کرنے کی اجازت دی جائے بصورت دیگر چیمپئن شپ کو منسوخ کر دیا جائے۔
اسرائیلی جمناسٹک فیڈریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی ٹیم کو چیمپیئن شپ میں شرکت سے انکار کر کے امتیازی رویہ برتا گیا ہے۔ تاہم جمناسٹک کی بین الاقوامی فیڈریشن نے کہا ہے کہ ہمارے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ ہم انڈونیشیا کو اس بارے میں مجبور کر سکیں کہ وہ اسرائیلی ٹیم کو ضرور ویزے جاری کرے۔
چیمپئن شپ کا انعقاد 19 سے 25 اکتوبر کے درمیان سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا میں ہونے جا رہا ہے جس میں 79 ممالک کے 500 ایتھلیٹس شرکت کریں گے۔
شرکت کی درخواست مسترد ہونے سے پہلے اسرائیلی ایتھلیٹس بھی تیاری کیے بیٹھے تھے۔ تاہم انڈونیشیا کے وزیر نے پچھلی جمعرات کو ہی کہہ دیا تھا کہ غزہ جنگ کی وجہ سے ہم اسرائیلی ٹیم کو چیمپیئن شپ میں شرکت کی اجازت نہیں دیں گے اور منگل کے روز انڈونیشیا کے امیگریشن سے متعلق حکام نے اسرائیلی ٹیم کے ویزے مسترد ہونے کے اطلاع دے دی ہے۔
یاد رہے انڈونیشیا کے اسرائیل کے ساتھ کوئی باقاعدہ تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم اسرائیلی شہری یا ان کے سپانسرز انڈونیشیا کے مختصر مدت کے ویزے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔