فرانس کی ایران میں اپنے دو شہریوں کے خلاف صوابدیدی جاسوسی کی سزاؤں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانسیسی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایرانی عدلیہ کی طرف سے جاسوسی کے الزام میں 2022 سے زیر حراست دو فرانسیسی شہریوں کے خلاف جاری کردہ من مانی سزاؤں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو وضاحت کی کہ سیسائل کوہلر اور جیکس پیرس، جو مئی 2022 سے ایران میں زیر حراست ہیں، کو 17 سے 20 سال تک کی من مانے طور پر دو دن پہلے کو سخت قید کی سزا سنائی گئی۔

فرانسیسی ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکام سے انہیں فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران کوہلر اور پیرس کے اہل خانہ نے تین سال کی حراست کے بعد ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا۔ کوہلر کی بہن نومائی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ قید کے ہر دن کی ذمہ داری فرانسیسی ریاست پر عائد ہوتی ہے کہ کوہلر اور جیکس پیرس کی جانیں بچائے۔

نومائی نے کہا کہ وہ سخت نگرانی میں آٹھ منٹ تک ویڈیو کال کے ذریعے اپنی بہن اور جیکس کے ساتھ بات کرنے میں کامیاب رہی ۔ یہ ایک تکلیف دہ کال تھی۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ کوہلر اور پیرس اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔ کولر کی عمر 40 سال ہے اور وہ ادب کے استاد ہیں۔ بیرس 72 سال کے ہیں۔ انہیں 7 مئی 2022 کو ایران کے سیاحتی سفر کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام لگایا گیا تھا۔ خاندانوں نے اس فرانسیسی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جس نے عالمی عدالت انصاف میں دائر کیا گیا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔

25 ستمبر کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے اعلان کیا کہ فرانس کی درخواست پر اس نے ایران کے خلاف کوہلر اور پیرس کی حراست سے متعلق دائر کی گئی شکایت کو خارج کر دیا ہے۔ دونوں خاندانوں نے ایران میں جیک پیرس کے لیے 17 سال اور سیسیل کوہلر کو 20 سال قید کی سزا کی توثیق کی۔ ایرانی عدالتی حکام نے ان دونوں افراد کے نام ظاہر کیے بغیر منگل 14 اکتوبر کو سزاؤں کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں