فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے جنگ بندی شرائط کے تحت تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کے بدلے غزہ میں موجود آخری زندہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
تیرہ اکتوبر کو ابتدائی رہائی کے بعد کے دنوں میں حماس نے بعض ہلاک شدہ قیدیوں کی باقیات حوالے کیں جنہیں اس نے اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ پیر کو رہائی پانے والے 20 زندہ اور غزہ میں بدستور موجود قیدیوں کے بارے میں بعض تفصیلات یہ ہیں، ان سبھی کو مردہ قرار دیا گیا:
نووا فیسٹیول کے قیدی
رہائی پانے والے زیادہ تر زندہ قیدیوں کو جنوبی اسرائیل میں Kibbutz Reim کے قریب نووا میوزک فیسٹیول کے مقام سے اغوا کیا گیا تھا۔
ان میں 24 سالہ ایویاتر ڈیوڈ بھی شامل ہے جس کی اگست میں حماس نے ایک ویڈیو جاری کی تھی اور وہ نہایت کمزور نظر آرہا تھا۔ اس نے ویڈیو میں کہا تھاکہ وہ اپنی ہی قبر میں تھا۔ ایک 24 سالہ پیانو نواز ایلون اوہل اور 32 سالہ اویناتن اور بھی تھا۔ اور اور اس کی اسیر دوست نوا ارگمانی کی ایک ویڈیو پوری دنیا میں دیکھی گئی۔ ارگمانی کو جون میں بچا لیا گیا تھا۔ اور کی رہائی کے فوراً بعد یہ جوڑا دوبارہ مل گیا۔
کبوتزم سے اغوا کردہ قیدی
سات قیدیوں کو غزہ کی سرحد کے قریب واقع چھوٹی برادریوں کبوتزم میں ان کے گھروں سے لے جایا گیا تھا۔ ان میں 28 سالہ جڑواں گالی اور زیو برمن، دو بھائی 28 سالہ ایریل کونیو اور 35 سالہ ڈیوڈ کونیو شامل ہیں جنہیں اس کی بیوی شیرون اور چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا۔ شیرون اور بچیوں کو نومبر 2023 کی ایک مختصر جنگ بندی میں رہا کر دیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوجی
بھرتی ہونے والے اسرائیلی فوجیوں 22 سالہ متان اینگریسٹ اور 20 سالہ نمرود کوہن کو پیر کو رہا کر دیا تھا۔
غیر ملکی قیدی
غزہ میں باقی 18 قیدیوں میں تین غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ایک تنزانیہ کے طالبِ علم اور دو تھائی کارکنان کو غیر حاضری میں مردہ قرار دیا گیا ہے۔ حماس نے نیپالی طالبِ علم بپن جوشی کی میت پیر کو حوالے کی۔
متوفیان
غزہ میں بدستور موجود تمام قیدیوں کو اسرائیلی حکام نے فرانزک اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر غیر حاضری میں مردہ قرار دیا تھا۔
ہلاک شدگان میں سے ایک اسرائیلی فوجی 2014 کی اسرائیل-حماس جنگ میں ہلاک ہوا۔ باقی تمام سات اکتوبر 2023 کے حملے کے 251 قیدیوں میں شامل تھے۔ بعض تو لے جاتے وقت پہلے ہی مر چکے تھے، باقی اغوا کاروں کے ہاتھوں یا غزہ میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے۔
حماس نے عندیہ دیا ہے کہ بعض لاشوں کی بازیابی میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ تدفین کے تمام مقامات معلوم نہیں ہیں۔ ان سب کو تلاش کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک خصوصی بین الاقوامی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔