طرابلس میں شادی کی تقریب فوجی پریڈ میں بدل گئی۔ بھاری ہتھیاروں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ایک شادی کی تقریب اس وقت جنگی منظر پیش کرنے لگی جب دلہا جو ایک مسلح ملیشیا کا رکن بتایا جاتا ہےکے ساتھیوں نے جشن کے لیے بھاری اسلحہ، راکٹ لانچر اور مشین گنیں استعمال کر ڈالیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سجی ہوئی گاڑیاں شہر کے ایک مرکزی راستے پر کھڑی ہیں اور ان میں سوار افراد نے باہر نکل کر فضا میں فائرنگ اور راکٹ داغنے شروع کر دیے۔ منظر ایسا لگ رہا تھا جیسے شادی نہیں بلکہ میدانِ جنگ ہو۔

ویڈیو سامنے آتے ہی لیبیا کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ صارفین نے اس طرزِ عمل کو سکیورٹی کی ناکامی اور ریاستی اختیار سے باہر اسلحے کے بے جا پھیلاؤ کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ شادیوں اور دیگر سماجی تقریبات میں اسلحے کے استعمال پر فوری پابندی عائد کی جائے۔

سماجی کارکن رمزی بن یونس نے اپنے تبصرے میں لکھاکہ "یہ طرزِ عمل شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے اور سکیورٹی کی صورتحال کو مزید بگاڑ رہا ہے۔ جب لوگ بھوک اور خراب سہولتوں کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں اسلحے سے آراستہ تقاریب اخلاقی بدعنوانی اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں"۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے آزادانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ایک اور صارف احمد اللالی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "لیبیا میں شادی کی دعوت کی ضرورت نہیں، جب گولہ باری کی آوازیں سنو تو سمجھ جاؤ کہ قریب ہی شادی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ خوشی نہیں، طاقت کا مظاہرہ ہے۔ آخر کب تک سماجی تقریبات کو انتشاری طاقت کے اظہار کا بہانہ بنایا جاتا رہے گا؟"۔

خیال رہے کہ 2011ء کے بعد سے لیبیا میں اسلحے کے آزادانہ پھیلاؤ کے باعث شادیوں اور دیگر تقریبات میں فائرنگ اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات معمول بن چکے ہیں، جن سے کئی بار جانی نقصان بھی ہو چکا ہے۔in

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں