حماس نے اسرائیلی یرغمالی کی لاش حوالے کر دی ، باقیات نکالنے کی وڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے آج منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی یرغمالی کی باقیات شام کے وقت اسرائیل کے حوالے کرے گی۔ یہ امر دونوں فریقوں کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کے تحت طے پایا ہے۔

اسی دوران "العربیہ" نے ایک خصوصی وڈیو نشر کی، جس میں خان یونس کے شمالی علاقے حمد شہر میں ایک تباہ شدہ سرنگ کے اندر اسرائیلی کی لاش تک رسائی کے مناظر دکھائے گئے۔ یہ لاش بھاری مصری مشینری کی مدد سے ایک ہفتے کی کھدائی کے بعد ملی۔

اس موقع پر حماس نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایک منظم پالیسی کے ذریعے انسانی بنیادوں پر جاری لاشوں کی تلاش کی کارروائیوں میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

تنظیم کے مطابق اسرائیلی فریق نے واضح طور پر بین الاقوامی ریڈ کراس اور القسام بریگیڈز کی مشترکہ ٹیموں کو ان علاقوں میں داخل ہونے سے روکا جہاں تلاش کا کام ہونا تھا اور بھاری مشینری اور ضروری آلات کی فراہمی سے بھی انکار کیا۔

حماس نے کہا کہ اسرائیل نہ صرف اپنے فوجیوں کی لاشوں کی تلاش میں رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ فلسطینی شہداء کی باقیات نکالنے کے عمل کو بھی روکے ہوئے ہے، جس سے ان کے اہلِ خانہ کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے ... اور یہ اقدام بین الاقوامی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم نے اسرائیل کے ان الزامات کو "بے بنیاد اور گمراہ کن" قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ حماس لاشوں کی تلاش میں سست روی دکھا رہی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس بہانے سے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہا ہے اور نئی جارحیت کے لیے جواز تراش رہا ہے۔

بیان کے اختتام پر حماس نے ثالث اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی رکاوٹوں کو ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور انسانی کاموں کو سیاسی یا عسکری مصلحتوں سے الگ رکھا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا کہ حماس عوام کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش میں سنجیدہ ہے، حالانکہ وہ متعدد لاشیں اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے مگر انہیں واپس نہیں کر رہی۔ فوج کے بیان میں کہا گیا کہ حماس جن بھاری آلات کا مطالبہ کر رہی ہے، وہ اس کام کے لیے ضروری نہیں ... اور تنظیم اس معاملے کو سیاسی و تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے آج اس بات کا الزام عائد کیا کہ حماس نے فائر بندی کی خلاف ورزی کی ہے، کیونکہ اس نے ایسی باقیات حوالے کیں جو دو سال قبل مارے گئے ایک اسرائیلی یرغمالی کی تھیں، جس کی لاش اسرائیلی فوج پہلے ہی واپس لا چکی تھی۔

پیر کی رات حماس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے 28 میں سے 16 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں۔ اس پر امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والے فائر بندی معاہدے کے تحت عمل ہوا ہے۔ یہ معاہدہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہوا تھا۔

تاہم اسرائیلی فرانزک رپورٹ کے مطابق تازہ طور پر ملنے والی باقیات اسی یرغمالی کی تھیں جسے فوج دو سال قبل ایک فوجی کارروائی کے دوران واپس لے آئی تھی۔

اس پر وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر اور اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ کے فورم نے حماس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں