اسرائیل نے مصر کے ساتھ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی گیس ڈیل منجمد کر دی ... واشنگٹن کا رد عمل

اسرائیلی گیس فیلڈ "لیویاتھان" نے مصر کو قدرتی گیس برآمد کرنے کے لیے 35 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے اپنا اسرائیل کا مقررہ چھ روزہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ان کے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہین نے حال ہی میں اسرائیل اور مصر کے درمیان طے پانے والے گیس برآمدات کے ایک بڑے معاہدے کی توثیق سے انکار کر دیا۔ یہ بات کوہین کے دفتر نے بتائی۔

اگست میں اسرائیلی گیس فیلڈ "لیویاتھان" نے مصر کو قدرتی گیس برآمد کرنے کے لیے 35 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا تھا، جو اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا برآمدی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ خبر "ٹائمز آف اسرائیل" نے دی تھی۔

تاہم، کوہین کے دفتر کے مطابق وزیر توانائی اس وقت تک اس معاہدے کی منظوری نہیں دیں گے جب تک کہ "اسرائیلی منڈی کے لیے منصفانہ قیمتوں" پر اتفاق نہیں ہو جاتا۔ دفتر نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایلی کوہین اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر معاہدے کی منظوری کے لیے شدید دباؤ ڈالا ہے۔ یہ بات جرمن خبر رساں ایجنسی (ڈی پی اے) نے بتائی۔

ادھر اسرائیلی اخبار "اسرائیل ہیوم" کے مطابق امریکی توانائی کمپنی "شیورون" جو اس گیس فیلڈ کو چلاتی ہے، وہ بھی اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ معاہدے کی منظوری دے۔

کوہین کے دفتر کے مطابق وزیر توانائی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "مقامی منڈی کے لیے قیمتیں پُر کشش رہنی چاہئیں"۔ دفتر نے مزید کہا کہ چونکہ مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے، اس لیے وزیر نے گیس برآمدات کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے جب تک قیمتوں کا معاملہ طے نہیں ہو جاتا۔

کوہین کے دفتر کے اس بیان نے امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ نمایاں کشیدگی پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن، اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "اس کے ساتھ ہی، اسرائیل اور مصر کے درمیان سفارتی پہلوؤں کو حل کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں