فلسطینی ریاست کے بغیر علاقائی سلامتی کا حصول ممکن نہیں: بحرین

ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا نفاذ ٹرننگ پوائنٹ ہے: بحرینی وزیر خارجہ عبد اللطیف الزیانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور خوشحالی کے حصول کو عمومی طور پر اس وقت تک ناقابل حصول قرار دیا ہے جب تک فلسطینی عوام کو اسرائیل کے شانہ بشانہ امن و سلامتی کے ساتھ رہنے کے لیے ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے ان کے جائز حق سے محروم رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں دائمی عدم استحکام کی وجہ فلسطین اسرائیل تنازع ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک منصفانہ اور دیرپا حل کی عدم موجودگی خطے میں سلامتی کے حصول کی تمام کوششوں کو نقصان پہنچاتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ منامہ غزہ کے حوالے سے حالیہ بین الاقوامی سفارتی کوششوں، خاص طور پر علاقائی ثالثوں کی حمایت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کو اپنانے کے بارے میں پر امید ہے۔ وزیر خارجہ الزیانی نے اس منصوبے کو ایک "تاریخی موڑ" قرار دیا جس کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد ہوا ہے۔ جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی شروع ہوسکی ہے۔

بحرینی وزیرخارجہ عبداللطيف الزياني
بحرینی وزیرخارجہ عبداللطيف الزياني

ٹرمپ پلان دیرپا امن کی بنیاد

عبد اللطیف الزیانی نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ کا منصوبہ غزہ میں دیرپا، مستحکم اور خوشحال امن کی بنیاد قائم کر رہا ہے جس سے وسیع تر علاقائی امن کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا کہ تمام فریق خطے میں امن کے مواقع کے قیام کے لیے پرعزم ممالک کی حمایت کے ساتھ اپنے وعدوں کو پوری طرح اور نیک نیتی سے پورا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کو ایرانی جوہری پروگرام کے مسئلے کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے ذریعے حل کرنے کے ساتھ مل کر اس انداز میں ہونا چاہیے کہ خطے کے خدشات کو دور کیا جائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اور طائف معاہدے پر عمل درآمد میں لبنان کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نےشام کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد، یمن میں امن کے فروغ کے لیے سعودی عرب اور عمان کی کوششوں کی حمایت اور سوڈان میں تنازع کو پرامن حل کے لیے کوارٹیٹ کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی۔

انہوں نے سلامتی کے لیے اپنے ملک کے ویژن کا مزید خاکہ پیش کیا اور اس بات کی توثیق کی کہ سکیورٹی کا بنیادی مطلب ریاست کے علاقے کی حفاظت، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت ، نیوی گیشن کی آزادی، سائبر سکیورٹی اور تجارت اور معلومات کے بلا روک ٹوک بہاؤ کے ذریعے عالمی رابطے کو برقرار رکھنا ہے۔

علاقائی اور بین الاقوامی تعاون

انہوں نے کہا منامہ کا یہ یقین واضح ہے کہ پائیدار سلامتی علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ حقیقی تعاون پر منحصر ہے۔ منامہ کو خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ دہشت گردی اور بحری قزاقی سے نمٹنے، بحری سلامتی کو بڑھانے کے لیے اتحاد کے ذریعے اپنی دفاعی شراکت داری پر بھی فخر ہے۔

یہ بات 21ویں منامہ ڈائیلاگ فورم کے ایک حصے کے طور پر "خلیج کی حفاظت: سفارت کاری، معیشت اور دفاع" کے عنوان سے منعقدہ ایک ڈائیلاگ سیشن کے دوران سامنے آئی۔ یہ سیشن "عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں علاقائی طاقت اور حکمرانی کا فن" کے موضوع کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس فورم کا اہتمام انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز نے وزارت خارجہ کے تعاون سے کیا ہے۔

سکیورٹی کے مواقع

عبد اللطیف الزیانی نے مزید اس بات پر زور دیا کہ حقیقی سلامتی کثیر جہتی ہے اور اس کے لیے خطے کے لوگوں کی امنگوں کے مطابق ایک ویژن پر مبنی مخلص اور پائیدار تعاون کی ضرورت ہے جس کی بنیاد متنوع مذاہب، ثقافتوں اور عقائد کے درمیان بقائے باہمی اور رواداری پر ہوتی ہے۔

حل کی کلید مکالمہ

بحرین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تنازعات کو حل کرنے کا بہترین طریقہ باہمی افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں معاشرے مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تعلیم اور ثقافتی تبادلے رواداری کو فروغ دینے، اعتماد پیدا کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری عناصر ہیں۔

بحرینی وزیر خارجہ نے خلیج عرب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اہم سمندری راستوں کو محفوظ بنانے والے 47 ملکی اتحاد کی مشترکہ میری ٹائم فورسز کی میزبانی پر بحرین کی تعریف کی۔ انہوں نے عرب ریاستوں کی لیگ کے اندر سائبر سکیورٹی کے عرب وزراء کی کونسل کے حالیہ قیام کو بھی سراہا اور کہا یہ کونسل ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک فعال نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تعاون کو ’’ خلیجی تعاون کونسل کی ریاستوں کے مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ جیسے معاہدوں سے مزید تقویت ملی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی رکن ریاست پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ ہمارے تعاون کو علاقائی استحکام کا سنگ بنیاد بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی سلامتی اکیلے کسی ایک ملک سے حاصل نہیں ہو سکتی۔

اقتصادی گاڑی اور سیاسی گھوڑا

عبد اللطیف الزیانی نے حقیقی سلامتی کے حصول کے لیے اقتصادی ترقی اور علاقائی انضمام کو ضروری عناصر قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک بکھرا ہوا خطہ جو معاشی عدم استحکام کا شکار ہے اور جس کے لوگ امید سے محروم ہیں وہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتا سوائے اس کے کہ اقتصادی باہمی انحصار میں اضافہ کیا جائے، شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچایا جائے، اعتماد اور تعاون کو بڑھایا جائے اور تصادم کے امکانات کو کم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے فریم ورک کے اندر رکن ممالک کسٹمز یونین کی تکمیل اور گلف کامن مارکیٹ کے قیام کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس طرح مکمل خلیجی شہریت کے تصور کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو گہرا کیا جا رہا ہے۔

بحرینی وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ جامع سکورٹی انٹیگریشن اینڈ پراسپرٹی ایگریمنٹ (C-SIPA) جس پر بحرین اور امریکہ کے درمیان دستخط ہوئے اور بعد میں برطانیہ نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی، خوشحالی اور سلامتی کے درمیان تعلق کی ایک عملی مثال ہے۔ یہ معاہدہ ایک سادہ اور پائیدار سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ سچائی یہ ہ کہ ہماری مشترکہ سلامتی ہماری مشترکہ خوشحالی سے الگ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں