مرحوم یاسر عرفات کا خستہ حال ولا غزہ کے بے گھر افراد کی پناہ گاہ بن گیا

اشرف نافع ابو سالم کے اور دیگر خاندانوں کو پناہ ملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مرحوم فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی غزہ کی رہائش گاہ بھی تباہ شدہ علاقے کی دیگر عمارات کی طرح کھنڈرات میں کھڑی ہے لیکن ایک زمانے میں شاہانہ ولا کی باقیات بھی اب کئی بے گھر خاندانوں کو پناہ دیئے ہوئے ہیں۔

اے ایف پی ٹی وی کی فوٹیج میں ملبے میں گھرا ہوا وہ گھر دکھایا گیا جو 2004 میں فلسطینی رہنما کی وفات کے بعد عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور ان کے اعزاز میں اس کی دیواروں پر یادگاری نقوش بنے ہوئے تھے۔

غزہ شہر کے رمل محلے میں واقع اس گھر کو دو سالہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں سے بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا۔

ایک یونیورسٹی پروفیسر اشرف نافع ابو سالم جنہیں اپنے اور دیگر خاندانوں کے ساتھ رہائش گاہ میں پناہ ملی، نے کہا کہ انہوں نے گھر کے صحن کے اندر موجود ملبے کو صاف کرنے کا فیصلہ کیا جو "بہت حد تک تباہ شدہ اور سوختہ تھا۔"

ولا سے سڑک پر کھلنے والا ایک دھاتی دروازہ عرفات کے پوسٹر سے مزین ہے جس میں وہ اپنا مخصوص کوفیہ رومال اور دھوپ کا چشمے پہنے ہوئے ہیں۔ اس میں ان کے پیچھے فلسطینی اتھارٹی کے موجودہ صدر محمود عباس کی ایک چھوٹی تصویر ہے۔

ابو سالم نے عرفات کی تصویر والی ایک قدیم کتاب کی ورق گردانی کی جس کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔

انہوں نے کہا، "ہم (1987 کے) انتفاضہ اوّل کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم پتھراؤ کرتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔"

"ہمارے لیے صدر ابو عمار فلسطینی قومی جدوجہد کا ایک نمونہ اور علامت تھے،" پروفیسر نے اس محبت بھرے نام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو عرفات کے حامی ان کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اے ایف پی کے تجزیہ کردہ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دو سالہ جنگ میں غزہ کی پٹی کی تین چوتھائی عمارات تباہ ہو چکی ہیں جس سے 61 ملین ٹن سے زیادہ ملبہ پیدا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں