اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ پر نئی فضائی کارروائیاں کیں۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب اسرائیل نے اعلان کیا کہ حماس کی جانب سے واپس کی گئی تین لاشیں ان قیدیوں کی نہیں ہیں جن کی واپسی متوقع تھی۔
غزہ کے ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ خان یونس کے اطراف میں فائرنگ اور فضائی بمباری کی آوازیں سنائی دیں۔
جمعے کی شب لاشوں کی حوالگی کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ذریعے نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لاشیں قیدیوں کی نہیں ہیں، جس کی تصدیق بعد میں فرانزک لیبارٹری نے بھی کر دی۔
دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم نے جمعے کے روز قیدیوں کے تبادلہ کے عمل میں رکاوٹ سے بچنے کے لیے تین نامعلوم لاشوں کے نمونے پیش کیے، مگر دشمن نے انہیں لینے سے انکار کر دیا اور مکمل لاشوں کے معائنے کا مطالبہ کیا، جس پر ہم نے ان لاشوں کو حوالے کر دیا تاکہ دشمن کی جھوٹی باتوں کا راستہ روکا جا سکے۔"
یہ پہلا واقعہ نہیں
یہ پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے کہا ہو کہ اسے غزہ سے ملنے والی لاشیں قیدیوں کی نہیں تھیں۔ 10 اکتوبر سے نافذ فائر بندی کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکومت نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے کئی الزامات لگائے ہیں، جبکہ قیدیوں کے اہل خانہ نے حماس پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعے کو ملنے والی تین لاشوں کے علاوہ حماس اب تک 28 میں سے 17 قیدیوں کی لاشیں واپس کر چکی ہے۔ ان میں 15 اسرائیلی، ایک تھائی اور ایک نپالی شہری شامل ہیں۔
اب بھی 10 قیدیوں کی لاشیں غزہ میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اسرائیلی فوجی کی لاش بھی ہے جو 2014 کی جنگ میں مارا گیا تھا۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل ہر اسرائیلی لاش کے بدلے 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کرتا ہے۔ اس طرح اب تک 225 فلسطینی لاشوں کی واپسی ممکن ہو گی۔
غزہ میں زندگی بے معنی ہو چکی ہے
غزہ میں انسانی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ 37 سالہ ہشام البرادعی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے رات بھر اسرائیلی فوج کی فائرنگ کی آوازیں سنیں، جنگ شروع ہے مگر جنگ ختم نہیں ہوئی۔"
اسی طرح 27 سالہ سميہ دلول نے بتایا کہ "زندگی کا کوئی مطلب نہیں رہا۔ موت زندگی سے بہتر لگتی ہے، پیسہ ہے، نہ روزگار، نہ کھانا، نہ پانی، نہ بجلی، نہ انٹرنیٹ"۔
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ کے مطابق "خطے کے مختلف علاقوں میں جنگ کے نتیجے میں 20 ہزار کے قریب ناکارہ بارودی مواد موجود ہیں"۔
اردن اور جرمنی کا مطالبہ
اردن اور جرمنی نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے تحت غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس کو اقوام متحدہ کا مینڈینٹ دیا جائے۔
منصوبے کی شقوں کے مطابق اگلے مرحلے میں ایک "عارضی بین الاقوامی استحکام فورس" فوری طور پر غزہ میں تعینات کی جائے گی، جو فلسطینی پولیس کی تربیت اور معاونت کرے گی۔
امریکی فوج کے مشرق وسطیٰ کمان (سینٹکام) نے بتایا کہ سیز فائر کی نگرانی کرنے والے مشترکہ مرکز نے حماس کے بعض ارکان کو ایک امدادی ٹرک لوٹتے دیکھا، جو شمالی خان یونس میں بین الاقوامی امدادی قافلے کا حصہ تھا۔
ترکیہ میں اسلامی وزرائے خارجہ کا اجلاس
ترکیہ پیر کے روز استنبول میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد کرے گا، جس کا مقصد امریکی امن منصوبے کی حمایت ہے۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، پاکستان، انڈونیشیا، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ مصر کی شرکت کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ان ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔
سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے میں 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، جب کہ اسرائیل کے جوابی حملوں میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 68 ہزار 858 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے۔