واشنگٹن کا غزہ سکیورٹی فورس کی اقوامِ متحدہ سے دو سالہ مینڈیٹ کے ساتھ منظوری پر زور: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایگزیاس نے اطلاع دی کہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کئی اراکین کو غزہ میں کم از کم دو سالہ مدت کے لیے بین الاقوامی فوج کے قیام کی غرض سے ایک مسودہ قرارداد ارسال کیا۔

اطلاع کے مطابق یہ مسودہ پیر کو ارسال کیا گیا تھا۔

اس مسودے کو "حساس لیکن غیر خفیہ" کے طور پر نامزد کیا گیا تھا جس کے مطابق امریکہ اور دیگر شریک ممالک کو غزہ پر حکومت کرنے کا وسیع مینڈیٹ مل جائے گا۔

یہ انہیں "2027 کے آخر تک اور اس کے بعد توسیع کے امکان کے ساتھ سکیورٹی فراہم" کرنے کا مینڈیٹ بھی پیش کرتا ہے۔

ایگزیاس سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ اس کا مقصد جنوری تک غزہ میں اولین فوجیوں کی تعیناتی ہے اور انٹرنیشنل سیکورٹی فورس (آئی ایس ایف) ایک "قانون نافذ کرنے والی فوج ہو گی، نہ کہ امن فوج"۔

آئی ایس ایف "غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانے کا عمل یقینی بناتے ہوئے غزہ میں سلامتی کے ماحول کو مستحکم کرے گی بشمول فوجی، دہشت گردانہ اور جارحانہ انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے خاتمے اور انسداد کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی مسلح گروپوں سے ہتھیاروں کا مستقل خاتمہ،" مسودے میں کہا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سے پتہ چلتا ہے کہ آئی ایس ایف کے مینڈیٹ میں حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہے، اگر گروپ ایسا نہ کرے۔

مزید برآں مسودے کے مطابق غزہ "امن بورڈ" کی مشاورت سے قائم کردہ فوج کو "اسرائیل اور مصر کے ساتھ غزہ کی سرحدوں کو محفوظ بنانے، شہریوں اور انسانی سفری راہداریوں کی حفاظت اور ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کو تربیت دینے کا کام تفویض کیا جائے گا جو اس کے مشن میں شراکت دار ہے۔"

جہاں تک بورڈ آف پیس کا تعلق ہے تو مسودے میں اسے ترجیحات طے کرنے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈز جمع کرنے کی غرض سے 'ایک عبوری حکومتی انتظامیہ' کے طور پر بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی 'اپنا اصلاحاتی پروگرام تسلی بخش طریقے سے مکمل نہ کر لے'۔

ایگزیاس کی اطلاع کے مطابق مسودے میں امن بورڈ کو کم از کم 2027 کے آخر تک برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں