اسرائیل : فوج کی سابق اعلیٰ لیگل افسر گرفتار کر لی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج سے پچھلے ہی ہفتے مستعفی ہونے والی اعلیٰ لیگل افسر کو اتوار کے روز حراست میں لے لیا تھا۔ کیونکہ فلسطینیوں پر تشدد کی ویڈیوز اگر اس طرح سامنے آنے لگیں تو اسرائیلی ریاست کے وہ راز سامنے آجائیں گے جنہیں بڑی مشکل سے اسرائیلی ریاست دنیا سے چھپاتی ہے۔

فوج سے استعفی دینے والی اس اعلی افسر کی حراستی مدت کو جمعہ کے روز تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی پولیس نے خبر رساں ادارے 'روئٹرز ' کو بتائی ہے۔

سابق ایڈووکیٹ جنرل ملٹری میجر جنرل ییفات تومر یروشلمی گذشتہ ہفتے ایک کرمنل انکوائری کے بعد اس کی وڈیو منظر عام پر آنے کے باعث استعفی دینے پر مجبور ہو گئی تھیں۔

انکوائری سے متعلق منظر عام پر انے والی ویڈیو میں فلسطینی قیدیوں کو ایک اسرائیلی اہلکار تشدد اور گالیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ سابق میجر جنرل یروشلمی نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ فلسطینی قیدیوں سے تفتیش کے دوران بنائی جانے والی ویڈیوز منظر عام پر لانے کی اجازت انہوں نے اگست 2024 میں دی تھی۔

اپنے استعفے کے بعد سابق میجر جنرل یروشلمی کچھ وقت کے لیے روپوش ہو گئی تھیں۔ لیکن بعد ازاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ فلسطینیوں پر تشدد کی یہ ویڈیو تحقیقات کے دوران منظر عام پر آئی جس کی وجہ سے اسرائیلی فوج کے پراسیکیوٹر کو پانچ محافظوں کے خلاف فرد جرم دائر کرنا پڑی۔
اس فرد جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیل میں ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ شدید بدسلوکی کی گئی اور اسے سخت چوٹ آئی۔ حتی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں، پھیپھڑا تک زخمی ہو کر پھٹ گیا۔

اس سلسلے میں انکوائری نے دائیں بازو کے سیاست دانوں کی مذمت کی، کیونکہ مظاہرین نے دو فوجی مراکز پر دھاوا بول دیا تھا۔ تفتیش کاروں کو اس معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے فوج طلب کرنا پڑ گئی۔

یاد رہے تشدد والی ویڈیو سیکیورٹی کیمرے سے بنائی گئی تھی مگر بعد ازاں ویڈیو اسرائیل کے چینل 12 پر دکھانے کے لیے پیش کر دی گئی۔

اسرائیلی پولیس نے اس سارے معاملے پر ابھی تک باضابطہ طور پر کو بیان جاری کیا ہے نہ ہی تبصرہ کیا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے معمول کا حصہ ہے۔

اسی لیے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کے الزامات اسرائیل کے خلاف لگتے ہیں اور جنگی جرائم کی عدالت نے بھی وارنٹ گرفتاری کی لپیٹ میں نیتن یاہو کو بھی لے رکھا ہے۔ ماہرین قانون ان واقعات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

اس ویڈیو میں فوجیوں کو دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک قیدی کو ایک طرف لے جا رہے ہیں اور ایک کتے کو پکڑ کر ادھر ادھر ہجوم کر رہے ہیں اور اپنے ہنگاموں کے سامان سے ان کے اعمال کی نمائش کو روک رہے ہیں۔ تومر یروشلمی نے کہا کہ اس کے اقدامات فوج کے قانونی محکمے کے خلاف پروپیگنڈے کو روکنے کی کوشش ہے جسے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے جنگ کے دوران اسرائیلی حراست میں فلسطینیوں کے ساتھ سنگین زیادتیوں کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیل کی فوج درجنوں مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ بدسلوکی منظم نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں