غزہ میں جنگ بندی خطرے میں، زیرِ زمین محصور جنگجو نیا بحران بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ میں تمام سرنگیں تباہ کرنے پر اصرار کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی ایک نئی شکل اختیار کر گئی ہے۔ رفح اور خان یونس کے زیرِ زمین سرنگوں میں پھنسے حماس کے جنگجوؤں کا مسئلہ اب جنگ بندی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ثالث ممالک شرم الشیخ میں طے پانے والے فائر بندی معاہدے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ مصر ان سرنگوں میں پھنسے حماس کے عناصر کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ "قاہرہ الاخباریہ" کے مطابق یہ سرنگیں رفح کے اس علاقے میں واقع ہیں جو اسرائیلی کنٹرول کے اندر "یلو زون" کہلاتا ہے۔

یہ نیا بحران جو اب اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں کے اندر موجود حماس کے جنگجوؤں سے جڑا ہے، فائر بندی معاہدے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے اور اگر حل نہ نکلا تو صورت حال ایک بار پھر نقطۂ آغاز پر واپس جا سکتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مصری سیاسی قیادت جنگ بندی کے تسلسل کے لیے سرگرم ہے تاکہ غزہ کی بحالی کے منصوبے کے اگلے مراحل تک پہنچا جا سکے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے جمعے کو اعلان کیا کہ انہوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ کی تمام سرنگیں یہاں تک کہ آخری سرنگ بھی مکمل طور پر تباہ کر دے "۔

امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ جنوبی غزہ میں پھنسے حماس کے جنگجوؤں کو اسلحہ ڈالنے کے بعد محفوظ راستہ دیا جا سکے۔

اسرائیلی اندازوں کے مطابق زیرِ زمین ان سرنگوں میں 200 سے 300 کے درمیان حماس کے جنگجو موجود ہیں، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اصل تعداد 100 کے قریب ہے جن میں سے زیادہ تر رفح میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کچھ جنگجو خان یونس، بیت حانون اور الشجاعیہ کے علاقوں میں بھی موجود ہیں۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی افواج اور حماس کے مسلح افراد کے درمیان ہونے والی جھڑپوں نے 10 اکتوبر سے جاری جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس دوران امریکہ نے حماس کے جنگجوؤں کو رفح کی سرنگوں سے 24 گھنٹے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز دی تھی تاکہ مزید جھڑپوں سے بچا جا سکے۔

تاہم حماس نے ابتدائی طور پر یہ پیشکش مسترد کر دی، لیکن بعد میں اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس کے بعد اسرائیلی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مہلت ختم ہو چکی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔

نتین یاہو کے اتحاد میں شامل سخت گیر وزراء نے "حماس کے جنگجوؤں کے لیے محفوظ راستہ کھولنے" کی تجویز پر سخت اعتراضات اٹھائے، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں